اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بیشتر اراکین پارلیمان نے منگل کو ہونے والے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مزید مذاکرات کی مخالفت کی۔ اجلاس میں پارٹی کی سیاسی حکمت عملی، قیادت کے فیصلوں اور خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ پر ردعمل کے حوالے سے اختلافات سامنے آئے۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کی زیر صدارت ہونے والا اجلاس سات گھنٹے سے زائد جاری رہا۔ اجلاس میں سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، سینیٹر علی ظفر اور چیف وہپ عامر ڈوگر سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔
میڈیا رپورٹس میں اجلاس کے شرکا کے حوالے سے بتایا گیا کہ بیشتر اراکین کا مؤقف تھا کہ ماضی میں مذاکرات کی کوششوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا اور مزید بات چیت سے پارٹی کی مذاکراتی پوزیشن کمزور ہوگی۔
تاہم تقریباً 15 اراکین نے مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم کے معاملے پر بات چیت کی حمایت کی۔ ان کا مؤقف تھا کہ تعاون سے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں اور سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
یہ اختلافات ظاہر کرتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے اندر اس بات پر مختلف آرا موجود ہیں کہ پارٹی کے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے یا حکومت کی مخالفت جاری رکھی جائے۔
متعدد اراکین نے پارٹی قیادت کی جانب سے خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو اختیارات دینے پر تنقید کی اور سوال اٹھایا کہ پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے میں کوئی باضابطہ عہدہ نہ رکھنے کے باوجود انہیں اتنا اثرورسوخ کیوں حاصل تھا۔
بعض اراکین نے قیادت پر الزام عائد کیا کہ وہ پارٹی کو درپیش سیاسی مسائل حل کرنے کے بجائے خیبر پختونخوا میں انتظامی تقرریوں، تبادلوں اور مالی معاملات کو ترجیح دے رہی تھی۔ تاہم ان الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
اجلاس میں اس وقت کشیدگی مزید بڑھ گئی جب اسد قیصر نے مبینہ طور پر ایک اعلامیہ پیش کیا جس میں ایسے نکات شامل تھے جن پر، متعدد شرکا کے مطابق، اجلاس میں بات نہیں ہوئی تھی۔
اطلاعات کے مطابق فیصل امین گنڈاپور نے اس اعلامیے پر اعتراض کیا اور بیرسٹر گوہر کے ساتھ تلخ کلامی کے بعد اجلاس چھوڑ کر چلے گئے۔
اعظم سواتی نے پارٹی قیادت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا، جبکہ دیگر اراکین نے گرفتار پارٹی کارکنوں، اراکین پارلیمان اور گرفتاریوں پر پارٹی کے ردعمل کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا۔
اختلافات کے باوجود شرکا کا مؤقف تھا کہ خیبر پختونخوا میں صوبائی حکومت کے خاتمے کے بعد بھی پی ٹی آئی کو عوامی حمایت حاصل ہے۔
بیرسٹر گوہر کا عمران خان سے ملاقاتوں کی بحالی کا مطالبہ
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے قید پی ٹی آئی کے بانی عمران خان سے ملاقاتوں کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندیاں گزشتہ 375 روز سے جاری ہیں۔
بیرسٹر گوہر کے مطابق پارٹی نمائندوں اور اہل خانہ کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت دینے سے سیاسی کشیدگی کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
انہوں نے خیبر پختونخوا میں ہنگامی اقدامات اور گورنر راج کے نفاذ پر بھی تنقید کی اور وفاقی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ سکیورٹی خدشات کو پی ٹی آئی کے خلاف سیاسی کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے لیے پارٹی کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سکیورٹی اقدامات کو سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی بہنوں کی حراست میں توسیع پر بھی سوال اٹھایا اور دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے قومی اسمبلی کے 12 اراکین اور متعدد صوبائی اراکین اب بھی زیر حراست ہیں۔
مزید مشاورت کا فیصلہ
اجلاس میں بیشتر اراکین کی جانب سے مذاکرات کی مخالفت کے باوجود بیرسٹر گوہر نے عوامی سطح پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بات چیت کی ضرورت پر زور دیا، جس سے پارٹی کی آئندہ سیاسی حکمت عملی کے حوالے سے اختلافات نمایاں ہوئے۔
اجلاس کے بعد عامر ڈوگر نے بتایا کہ تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا اور پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں قائدین حزب اختلاف کے ساتھ مشاورت جاری رکھی جائے گی۔
سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ آئندہ کے ممکنہ لائحہ عمل کا جائزہ لینے کے لیے پارلیمانی قائدین حزب اختلاف کی سربراہی میں کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی۔
یہ مشاورت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب خیبر پختونخوا میں ہونے والی پیش رفت کے بعد پی ٹی آئی کو اپنی تنظیمی قیادت، سیاسی نمائندگی اور وفاقی حکومت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے سوالات کا سامنا ہے۔
پارٹی نے تاحال مزید مذاکرات یا مجوزہ آئینی ترمیم سے متعلق اپنا حتمی مؤقف جاری نہیں کیا۔





