پشاور: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت صوبے کو وہ تعاون فراہم نہیں کر رہی جس کا وہ مستحق ہے، جبکہ صحت کے شعبے میں بہتری اور عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔
اتوار، یکم نومبر کو پشاور میں پاکستان ایسوسی ایشن آف یورولوجیکل سرجنز کی سالانہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں بھی پنجاب اور سندھ کی طرز پر صحت کی سہولتوں کو بہتر بنایا جانا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ صوبے کی ضروریات کو نظرانداز کرنے کا سلسلہ ختم کیا جائے اور صحت کے شعبے میں عملی اقدامات کیے جائیں۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ جدید اور خصوصی طبی سہولتیں صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنی چاہییں بلکہ ضم شدہ اضلاع، جنوبی اضلاع اور دور دراز علاقوں کے شہریوں کو بھی معیاری علاج کی یکساں سہولت ملنی چاہیے۔
ان کے مطابق اسپتالوں کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری، جدید طبی آلات کی فراہمی، ڈاکٹروں کی تربیت اور طبی تحقیق کے فروغ سے صوبے کے نظام صحت کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔
گورنر نے طبی تنظیموں کے کردار کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ادارے نوجوان ڈاکٹروں کی تربیت اور سرکاری اسپتالوں کے ساتھ تعاون بڑھانے میں مدد فراہم کر سکتے ہیں۔
ہاؤس آفیسرز کی 70 ہزار روپے تنخواہ پر نظرثانی کا اعلان
گورنر فیصل کریم کنڈی نے ہاؤس آفیسرز کی موجودہ ماہانہ تنخواہ 70 ہزار روپے کو ناکافی قرار دیتے ہوئے اس پر نظرثانی کرنے کا اعلان کیا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومتوں کے مثبت اقدامات جاری رکھے جائیں گے، جبکہ صحت کے شعبے میں موجود خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
گورنر نے نوجوانوں کو ملک کا مستقبل قرار دیتے ہوئے ان کی رہنمائی اور پیشہ ورانہ ترقی کے لیے مواقع فراہم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے صوبے میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے مستحکم اور سازگار ماحول فراہم کرنے کی بات بھی کی۔
تاہم ہاؤس آفیسرز کی مجوزہ نئی تنخواہ، اس پر عمل درآمد کے وقت یا صحت کے شعبے کے لیے اضافی مالی وسائل سے متعلق کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
خیبرپختونخوا کی ترقی کے لیے پائیدار امن ضروری قرار
پشاور میں دربار عالیہ مرشد آباد شریف کی ایک تقریب سے الگ خطاب کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی ترقی اور خوشحالی کے لیے مستقل امن کا قیام بنیادی شرط ہے۔
تقریب میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، گورنر کے مشیر طیب قریشی اور دیگر شخصیات نے شرکت کی۔
گورنر نے کہا کہ خیبرپختونخوا کئی دہائیوں تک دہشت گردی سے متاثر رہا ہے اور صوبے کے عوام نے امن کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں۔
انہوں نے سکیورٹی اہلکاروں، مذہبی رہنماؤں، سیاسی شخصیات اور عام شہریوں کے ساتھ آرمی پبلک اسکول کے شہید طلبہ کی قربانیوں کا بھی ذکر کیا۔
فیصل کریم کنڈی نے مذہبی علما پر زور دیا کہ وہ معاشرے میں برداشت، اتحاد اور ہم آہنگی کو فروغ دیں اور انتہاپسندی کی حوصلہ شکنی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
انہوں نے کھیلوں کے فروغ اور نوجوان کھلاڑیوں کو بہتر مواقع فراہم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
گورنر کے مطابق مردان، ڈیرہ اسماعیل خان اور بنوں سمیت صوبے کے مختلف علاقوں نے ایسے کھلاڑی پیدا کیے ہیں جنہوں نے بین الاقوامی سطح پر ملک کا نام روشن کیا۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا تیل، گیس، آبی وسائل، سیاحت اور تربیلا ڈیم جیسے اہم اثاثوں سے مالامال ہے، جن کے مؤثر استعمال سے صوبے کی معیشت کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
پشاور کی ماضی میں 'پھولوں کے شہر' کے طور پر پہچان کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے صوبے کا مثبت تشخص بحال کرنے کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور دیا۔
گورنر نے کہا کہ عوام کا تحفظ اولین ترجیح ہونی چاہیے، جس کے بعد صوبے کی ترقی اور ملک کی خوشحالی کے لیے کام کیا جائے۔
ان کے بیانات کے بعد صوبے کے لیے وفاقی تعاون، دور دراز اضلاع میں طبی سہولتوں کی فراہمی اور ہاؤس آفیسرز کی تنخواہوں پر مجوزہ نظرثانی کے عملی اقدامات سامنے آنا باقی ہیں۔





