لاہور: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ہفتے کے روز وفاقی وزرا کے ان الزامات کو مسترد کر دیا کہ انہوں نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبائی انتظامیہ میں حصہ حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملک کی سیکیورٹی صورتحال پر ان کی تنقید ریاستی اداروں کے بجائے حکومتی پالیسیوں پر ہے۔ انہوں نے وفاقی وزرا کے الزامات کو اپنی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش قرار دیا۔
وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر 2026 کو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا تھا۔ حکومت نے اس اقدام کی وجہ صوبائی انتظامیہ کی جانب سے انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں میں مبینہ عدم تعاون کو قرار دیا تھا۔
مولانا فضل الرحمان نے ملک کی سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے اور سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے انسدادِ دہشت گردی کی حکمت عملی تیار کرنے کے لیے پارلیمنٹ کا اِن کیمرا اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ متعدد سیکیورٹی آپریشنز کے باوجود ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ کیوں نہیں ہو سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی سے متعلق فیصلوں میں پارلیمنٹ کو شامل کیا جانا چاہیے۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ نے فیصلہ سازی کے عمل پر بھی تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ پالیسیاں پارلیمنٹ سے باہر تیار کی جا رہی ہیں اور مشاورت کے بغیر ان پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی مخالفت کرتے ہوئے 1970 کی دہائی میں بلوچستان میں اسی نوعیت کے اقدامات کے خلاف اپنے خاندان کے مؤقف کا حوالہ دیا۔
مولانا فضل الرحمان نے سوال کیا کہ جب بلوچستان بھی دہشت گردی کے واقعات کا سامنا کر رہا ہے تو صرف خیبر پختونخوا میں گورنر راج کیوں نافذ کیا گیا؟
انہوں نے مزید سوال اٹھایا کہ اگر حکومت سمجھتی تھی کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عسکریت پسند گروہوں کی حمایت کر رہی ہے تو مداخلت سے قبل اس جماعت کے ساتھ مذاکرات کیوں کیے گئے؟
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے کارکنوں پر ہونے والے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات میں ان کی جماعت کے تقریباً 250 کارکن جاں بحق ہو چکے ہیں۔ انہوں نے ان الزامات کو مسترد کیا کہ ان کی جماعت عسکریت پسندوں سے ہمدردی رکھتی ہے۔
مولانا فضل الرحمان کا یہ بیان وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی تنقید کے بعد سامنے آیا، جنہوں نے کسی سیاسی رہنما کا نام لیے بغیر الزام لگایا تھا کہ وہ خیبر پختونخوا کی گورنری حاصل نہ ہونے پر ناراض ہیں۔
بعد ازاں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بھی مولانا فضل الرحمان پر صوبے کے انتظامی معاملات میں سیاسی نمائندگی حاصل کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا۔
جڑانوالہ میں گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ وفاقی حکومت کی مداخلت کا مقصد سیاسی اختیارات کی تقسیم کے بجائے دہشت گردی سے نمٹنا تھا۔
انہوں نے ان الزامات کو مسترد کیا کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا کے معدنی وسائل پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئی انتظامیہ انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات پر عمل درآمد کے لیے قائم کی گئی ہے۔
طلال چوہدری نے تحریک انصاف پر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ روابط رکھنے کا الزام بھی عائد کیا، تاہم انہوں نے اس تعلق کو ثابت کرنے کے لیے کوئی آزادانہ شواہد پیش نہیں کیے۔
دوسری جانب وزیر دفاع خواجہ آصف نے سیکیورٹی فورسز سے متعلق مولانا فضل الرحمان کے بیانات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گورنر راج کے نفاذ سے قبل حکومت نے اپوزیشن رہنماؤں سے مشاورت کی تھی۔
سیالکوٹ میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ اگر صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہو جائے تو پارلیمنٹ ایمرجنسی کے اقدامات واپس لے سکتی ہے۔
خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے بھی مولانا فضل الرحمان کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے گورنر راج کے تحت قائم انتظامیہ کا دفاع کیا۔
یہ تنازع خیبر پختونخوا میں سیاسی کشیدگی اور سیکیورٹی انتظامات کے معاملے پر وفاقی حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے بعد سامنے آیا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے وفاقی مداخلت سے قبل دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات میں سہولت کاری کی تھی، تاہم بات چیت کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئی۔
اپوزیشن جماعتوں نے وفاقی حکومت کے اقدامات پر تنقید کی ہے، جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ صوبے میں سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے یہ اقدامات ضروری تھے۔





