راولپنڈی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بلوچستان کے اضلاع کچھی اور خاران میں سیکیورٹی فورسز کی دو انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیوں کے دوران 17 دہشت گرد ہلاک اور پاک فوج کا ایک جوان شہید ہو گیا۔
منگل، 3 نومبر کو جاری بیان کے مطابق دونوں کارروائیاں یکم نومبر کو دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاعات پر کی گئیں۔
آئی ایس پی آر نے ان کارروائیوں میں نشانہ بنائے گئے عناصر کو فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج سے منسلک قرار دیا۔
اکستانی حکام فتنہ الہندوستان کی اصطلاح بلوچستان میں سرگرم عسکریت پسند تنظیموں، جبکہ فتنہ الخوارج کی اصطلاح کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ عناصر کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
فوج نے ان عناصر کو بھارت کی حمایت حاصل ہونے کا الزام بھی عائد کیا، تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
کچھی میں سڑک بند کرنے کی کوشش ناکام، 10 دہشت گرد ہلاک
آئی ایس پی آر کے مطابق پہلی کارروائی ضلع کچھی کے علاقے سنی میں کی گئی، جہاں دہشت گرد سڑک بند کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ان کی کوشش ناکام بنا دی، جس کے نتیجے میں 10 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔
کارروائی کے دوران اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔
فوج کے مطابق اہلکاروں نے دہشت گردوں کو سڑک پر رکاوٹیں قائم کرنے سے پہلے ہی روک دیا۔
خاران میں سات دہشت گرد ہلاک، سپاہی حکمت اللہ شہید
دوسری کارروائی ضلع خاران میں دہشت گردوں کے ایک مشتبہ ٹھکانے کے خلاف کی گئی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے ٹھکانے کا سراغ لگا کر کارروائی کی، جس کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور سات دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔
اسی کارروائی میں پاک فوج کے سپاہی حکمت اللہ شہید ہو گئے۔
25 سالہ سپاہی حکمت اللہ کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع کرک سے تھا۔
سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کے مقام سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا۔
فوج کے مطابق دونوں علاقوں میں مزید دہشت گردوں کی موجودگی کا پتا لگانے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہیں۔
صدر، وزیراعظم اور وزیر داخلہ کا سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
صدر آصف علی زرداری نے بلوچستان میں کارروائیوں کے دوران 17 دہشت گردوں کی ہلاکت پر سیکیورٹی فورسز کی کارکردگی کو سراہا اور سپاہی حکمت اللہ کو خراج عقیدت پیش کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کو سراہا اور شہید جوان کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کارروائیوں میں حصہ لینے والے اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف اقدامات جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق نیشنل ایکشن پلان کی وفاقی ایپکس کمیٹی سے منظور شدہ عزمِ استحکام مہم کے تحت دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔
تاہم حملوں میں کمی کے باوجود بلوچستان میں عسکریت پسندوں کی سرگرمیاں اور اغوا کے واقعات سیکیورٹی کے اہم مسائل بنے ہوئے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گرد نیٹ ورکس کے خاتمے اور مزید حملوں کی روک تھام کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی۔





