پشاور: پشاور ہائی کورٹ نے منگل کو خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے دیگر رہنماؤں کی حراست سے متعلق درخواستیں لارجر بینچ کی تشکیل کے لیے چیف جسٹس کو بھجوا دیں۔ یہ فیصلہ صوبائی حکومت اور متعلقہ حکام کی جانب سے رہنماؤں کی موجودگی اور حراست سے متعلق عدالتی احکامات پر عمل نہ کرنے کے بعد کیا گیا۔
جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس محمد فہیم ولی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے ان درخواستوں کی سماعت کی، جن میں 11 اکتوبر کو خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ہنگامی اقدامات کے نفاذ کے بعد سے لاپتا پی ٹی آئی رہنماؤں کی بازیابی کی استدعا کی گئی ہے۔
درخواستوں میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، صوبائی اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی، ارکان قومی اسمبلی جنید اکبر اور ڈاکٹر امجد علی، صوبائی وزیر امجد علی خان، ارکان صوبائی اسمبلی اکرام اللہ اور اورنگزیب خان، سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید اور دیگر رہنماؤں کی مبینہ حراست کا معاملہ شامل ہے۔
عدالت نے 20 اکتوبر کو صوبائی حکومت، پولیس اور متعلقہ اداروں کو ہدایت کی تھی کہ وہ واضح کریں کہ آیا مذکورہ رہنما زیر حراست ہیں، انہیں کہاں رکھا گیا ہے اور ان کی حراست کی قانونی بنیاد کیا ہے۔
تاہم منگل کی سماعت تک متعلقہ حکام نے مطلوبہ رپورٹیں جمع نہیں کرائیں۔
جسٹس ارشد علی نے اس تاخیر پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ عدالت پہلے ہی حکام کو جواب جمع کرانے کے لیے 10 دن دے چکی ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا ثناء اللہ خان نے مزید تین دن کی مہلت مانگتے ہوئے بتایا کہ ان کا دفتر محکمہ داخلہ، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے جواب کا منتظر ہے۔
بعد ازاں بینچ نے درخواستیں لارجر بینچ کی تشکیل کے لیے چیف جسٹس کو بھجوا دیں۔ ایڈووکیٹ جنرل نے بھی لارجر بینچ تشکیل دینے کی درخواست کی۔
سہیل آفریدی کی موجودگی سے متعلق معلومات سامنے نہیں آ سکیں
سہیل آفریدی 11 اکتوبر کے بعد سے عوامی سطح پر نظر نہیں آئے، جب وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ہنگامی اقدامات نافذ کیے تھے۔
12 اکتوبر کو ایک وفاقی وزیر نے تصدیق کی تھی کہ سہیل آفریدی اور ان کی کابینہ کے بعض ارکان کو احتیاطی حراست میں لیا گیا ہے۔
تاہم حکام نے تاحال یہ واضح نہیں کیا کہ انہیں کہاں رکھا گیا ہے اور ان کی حراست کن قانونی احکامات کے تحت عمل میں آئی۔
سہیل آفریدی کے بھائی محمد عامر نے 13 اکتوبر کو پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ ان کے بھائی کو ہنگامی اقدامات کے نفاذ کے دوران وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور سے اٹھایا گیا۔
دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں کے اہل خانہ نے بھی اسی نوعیت کی درخواستیں دائر کی ہیں۔
درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ متعلقہ حکام کو رہنماؤں کی موجودگی کا تعین کرنے، انہیں عدالت میں پیش کرنے اور غیر قانونی حراست ثابت ہونے کی صورت میں رہا کرنے کا حکم دیا جائے۔
انہوں نے مبینہ گرفتاریوں سے متعلق سی سی ٹی وی فوٹیج، سکیورٹی ریکارڈ اور دیگر شواہد محفوظ کرنے کی بھی درخواست کی ہے۔
تاہم اغوا سے متعلق الزامات پر عدالت نے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں دیا۔
منتخب نمائندوں کی گرفتاری سے متعلق قانونی سوالات
سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکیل بشیر وزیر نے مؤقف اختیار کیا کہ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹ کو اختیار حاصل ہے کہ وہ غیر قانونی حراست میں رکھے گئے افراد کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے۔
انہوں نے کہا کہ عدالت سہیل آفریدی اور بابر سلیم سواتی کی پیشی کا حکم دے کر ان کی حراست کی قانونی حیثیت معلوم کر سکتی ہے۔
وکیل نے خیبر پختونخوا صوبائی اسمبلی کے اختیارات، استثنیٰ اور مراعات سے متعلق قانون 2026 کا بھی حوالہ دیا۔
ان کے مطابق اس قانون کے تحت اسمبلی ارکان کی گرفتاری یا حراست کے لیے مخصوص قانونی طریقہ کار اختیار کرنا ضروری ہے۔
قانون کی دفعہ 11 کے تحت کسی رکن صوبائی اسمبلی کی گرفتاری یا حراست سے قبل اسپیکر سے اجازت حاصل کرنے کی شرط موجود ہے۔
تاہم اس قانون کے دائرہ کار اور منتخب نمائندوں کو حاصل تحفظات پر وفاقی اور صوبائی حکام کے درمیان اختلاف بھی سامنے آیا ہے۔
درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کی مبینہ حراست میں ان قانونی تحفظات کی خلاف ورزی کی گئی۔ اس معاملے کا حتمی تعین عدالت کرے گی۔
حکومتی مؤقف اور آئینی پہلو
ایڈووکیٹ جنرل نے دورانِ سماعت نقص امن کی روک تھام کے قانون، مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) کے تحت 200 سے زائد حراستوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ ان معاملات میں سماعت کے بغیر احکامات جاری کیے گئے تھے۔
تاہم بینچ نے اس مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ ان مقدمات میں بھی متعلقہ حکام سے رپورٹیں طلب کی گئی تھیں، جو جمع نہیں کرائی گئیں۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ زیر سماعت درخواستیں ایم پی او کے تحت حراست سے متعلق نہیں ہیں۔
موجودہ مقدمات میں بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا متعلقہ سیاست دانوں کو باضابطہ طور پر گرفتار کیا گیا، احتیاطی حراست میں لیا گیا یا کسی دوسرے قانونی انتظام کے تحت رکھا گیا ہے۔
یہ فرق اس لیے اہم ہے کہ ریاستی اداروں کی جانب سے کسی شخص کو حراست میں رکھنے کے لیے قانونی اختیار ہونا ضروری ہے، جبکہ اس اقدام کو آئینی طریقہ کار کے تحت عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔
آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹ مخصوص شرائط کے مطابق کسی شخص کی حراست کی قانونی حیثیت کا جائزہ لے سکتی ہے اور اسے عدالت میں پیش کرنے کا حکم بھی دے سکتی ہے۔
گورنر راج کا نفاذ بذاتِ خود کسی مخصوص شخص کی حراست کو قانونی قرار نہیں دیتا۔
اب کیا ہوگا؟
یہ درخواستیں ایسے وقت میں زیر سماعت ہیں جب وفاقی حکومت نے امن و امان اور انسداد دہشت گردی کی پالیسی سے متعلق اختلافات کے بعد خیبر پختونخوا میں انتظامی مداخلت کی ہے۔
گورنر راج کے نفاذ سے صوبے کا انتظامی نظام تبدیل ہوا ہے، جبکہ منتخب نمائندوں کی حراست نے عدالتی رسائی اور صوبائی سیاسی اختیارات سے متعلق قانونی سوالات پیدا کیے ہیں۔
اب پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس درخواستوں کی سماعت کے لیے لارجر بینچ کی تشکیل پر غور کریں گے۔
منگل کی کارروائی کے دوران کسی رہنما کی عدالت میں پیشی یا رہائی کا حکم جاری نہیں کیا گیا۔
آئندہ سماعتوں میں متعلقہ حکام سے رپورٹیں طلب کرنے، رہنماؤں کی موجودگی اور حراست کی قانونی حیثیت کا جائزہ لینے اور آئینی تقاضوں پر عمل درآمد کا معاملہ زیر بحث آئے گا۔





