اسلام آباد: حکومت کی تازہ قیمتوں کے تحت بدھ کو پیٹرول خریدنے والوں کا خرچ کچھ کم ہوگا، تاہم ڈیزل استعمال کرنے والوں کو زیادہ ادائیگی کرنا پڑے گی۔ اس طرح ایندھن کی قیمتوں میں تبدیلی سے ٹرانسپورٹ کے مختلف شعبوں پر الگ الگ اثر پڑے گا۔
پیٹرول کی قیمت 3.19 روپے کمی کے بعد 376.06 روپے فی لیٹر ہوگئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 2.25 روپے اضافے کے ساتھ 398.07 روپے فی لیٹر دستیاب ہوگا۔ ڈان کے مطابق پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن میں یہ قیمتیں 28 اکتوبر کے لیے مقرر کی گئی ہیں۔
نئی قیمت پر 50 لیٹر پیٹرول خریدنے والے کو 159.50 روپے کم ادا کرنا ہوں گے، جبکہ اتنی ہی مقدار میں ڈیزل کی خریداری پر 112.50 روپے اضافی خرچ آئیں گے۔
پیٹرول موٹر سائیکلوں، رکشوں اور نجی گاڑیوں میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے کمی سے ان صارفین کو محدود بچت ملے گی۔ ڈیزل بھاری ٹرانسپورٹ کا اہم ایندھن ہے اور اس کی قیمت بڑھنے سے مال برداری کے اخراجات پر دباؤ پڑ سکتا ہے۔ تاہم اس تبدیلی سے کرایوں یا اشیا کی قیمتوں میں اضافہ خود بخود ثابت نہیں ہوتا۔
رپورٹ کے مطابق پیٹرول پر ٹیکس اور ڈیوٹیز کی مد میں 114 روپے اور ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر وصول کیے جا رہے ہیں۔
قیمتوں کا اعلان منگل کو وزیراعظم شہباز شریف اور امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کی ملاقات کے بعد سامنے آیا۔ ملاقات میں جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی، یعنی ایندھن پر عائد حکومتی محصول، ختم کرنے کا مطالبہ اٹھایا۔
فریقین نے موٹر سائیکلوں، رکشوں اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے موجودہ ریلیف اسکیم میں توسیع پر غور کرنے کے لیے مشترکہ کمیٹی بنانے پر اتفاق کیا۔ اضافی رعایت کا اعلان ابھی نہیں کیا گیا۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ نمایاں ریلیف نہ ملنے کی صورت میں جماعت اسلامی نومبر کے وسط میں اسلام آباد کی طرف مارچ کرے گی۔
حکومت 17 جولائی سے عالمی منڈی کی تبدیلیوں کے مطابق روزانہ ایندھن کی قیمتیں مقرر کر رہی ہے۔ اس لیے بدھ کی کمی کو آئندہ دنوں میں بھی قیمت کم رہنے کی ضمانت نہیں سمجھا جا سکتا۔





