آٹوموٹیو اینڈ آٹو پارٹس مینوفیکچرنگ پالیسی 2026 سے 2031 کا مقصد درآمدی ڈیوٹی میں کمی اور ٹیکس مراعات کے ذریعے ملک میں گاڑیوں کی پیداوار بڑھانا، برآمدات میں اضافہ کرنا اور الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔
حکومتی تخمینوں کے مطابق آئندہ پانچ برسوں میں مقامی سطح پر گاڑیوں اور پرزوں کی تیاری سے 17 ارب 70 کروڑ ڈالر کی بچت ہو سکتی ہے، جبکہ الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ سے مزید چھ ارب 90 کروڑ ڈالر کے فوائد حاصل ہونے کی توقع ہے۔ یوں مجموعی معاشی فوائد کا تخمینہ تقریباً 24 ارب 60 کروڑ ڈالر لگایا گیا ہے۔
مجوزہ پالیسی میں مالی سال 2030 سے 2031 تک گاڑیوں اور آٹو پارٹس کی مجموعی برآمدات چھ ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے، جبکہ اس وقت اس شعبے کی سالانہ برآمدات تقریباً 19 سے 20 کروڑ ڈالر ہیں۔
صارفین کے لیے اس پالیسی کا سب سے نمایاں پہلو گاڑیوں کی قیمتوں میں ممکنہ کمی ہے۔
صنعتی تخمینوں کے مطابق عام پیٹرول گاڑیوں کی قیمتیں آٹھ سے دس فیصد تک کم ہو سکتی ہیں، جبکہ ہائبرڈ گاڑیوں کی قیمتوں میں تقریباً نو فیصد کمی کا امکان ہے۔ بعض پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں کی قیمتیں 20 فیصد سے بھی زیادہ کم ہو سکتی ہیں۔
پالیسی کے مسودے میں مکمل بیٹری سے چلنے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فیصد، رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک گاڑیوں پر چھ فیصد اور پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں پر نو فیصد سیلز ٹیکس تجویز کیا گیا ہے۔
تاہم یہ تمام اقدامات ابھی تجاویز کی حد تک ہیں اور گاڑیوں کی قیمتوں میں متوقع کمی کو حتمی نہیں سمجھا جا سکتا۔
دوسری جانب پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹوموٹیو پارٹس اینڈ ایسیسریز مینوفیکچررز (پاپام) نے مجوزہ پالیسی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
تنظیم نے 23 اکتوبر کو وزیراعظم شہباز شریف کے نام لکھے گئے خط میں خبردار کیا کہ درآمدی گاڑیوں اور ان کے پرزوں پر ڈیوٹی میں کمی سے مقامی صنعت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
پاپام کے چیئرمین عبدالرحمان اعزاز کے مطابق ملک میں آٹو پارٹس تیار کرنے والی 1200 سے زائد کمپنیاں کام کر رہی ہیں، جن سے تقریباً 15 لاکھ افراد کا روزگار وابستہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مقامی صنعت سالانہ ایک ارب 80 کروڑ ڈالر کی درآمدات کا متبادل فراہم کرتی ہے، جبکہ گاڑیاں اسمبل کرنے والی کمپنیوں کو تقریباً 700 ارب روپے مالیت کے مقامی پرزے فراہم کیے جاتے ہیں۔
یہ اختلاف ایک بڑے معاشی مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ درآمدی ڈیوٹی میں کمی سے مارکیٹ میں مقابلہ بڑھ سکتا ہے اور صارفین کو زیادہ انتخاب مل سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب چینی الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنیاں پاکستان میں اپنی موجودگی بڑھا رہی ہیں۔
تاہم مقامی پرزہ ساز کمپنیوں کے لیے اصل تشویش صرف یہ نہیں کہ درآمدی گاڑیاں کتنی سستی ہوں گی، بلکہ یہ بھی ہے کہ درآمدی ڈیوٹی کے ذریعے حاصل تحفظ میں کمی کے بعد پاکستانی پرزے مارکیٹ میں کس حد تک مقابلہ کر سکیں گے۔
پالیسی کے مسودے کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال میں اضافے سے ایندھن کی درآمدات میں کمی، بجلی کے استعمال اور دیگر معاشی و ماحولیاتی فوائد کی مد میں مجموعی طور پر چھ ارب 90 کروڑ ڈالر کے فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف پالیسی کے مسودے کی منظوری دے چکے ہیں، تاہم اسے حتمی شکل دینے سے پہلے کابینہ کی سطح پر مزید غور اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا جائزہ بھی باقی ہے۔
اب حکومت کے سامنے بنیادی چیلنج یہ ہے کہ صارفین کے لیے گاڑیوں کو سستا بناتے ہوئے مقامی صنعت کی پیداواری صلاحیت اور اس سے وابستہ روزگار کو کیسے محفوظ رکھا جائے۔





