اسلام آباد: نیشنل ایگزیکٹو کمیٹی نے نقد لین دین کی لازمی رپورٹنگ کی حد 20 لاکھ سے بڑھا کر 30 لاکھ روپے کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس تبدیلی کے باوجود منی لانڈرنگ یا دہشت گردی کی مالی معاونت کے شبہے پر لین دین کی الگ رپورٹ دینا ضروری رہے گا۔
ڈان کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اجلاس میں یہ فیصلہ ملک کے انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کے نظام کے جائزے کے دوران کیا گیا۔
دونوں اقسام کی رپورٹنگ میں فرق اہم ہے۔ کرنسی ٹرانزیکشن رپورٹ (CTR) اس وقت درکار ہوتی ہے جب نقد لین دین مقررہ حد کے برابر یا اس سے زیادہ ہو۔ اس کے برعکس مشکوک لین دین کی رپورٹ (STR) ایسی سرگرمی سے متعلق ہوتی ہے جس میں منی لانڈرنگ یا دہشت گردی کی مالی معاونت کا شبہ ہو۔
اس لیے نئی حد کا مطلب یہ نہیں کہ 30 لاکھ روپے سے کم کا مشکوک لین دین جانچ سے مستثنیٰ ہوگیا ہے۔ اسی طرح مقررہ حد تک پہنچنے والے نقد لین دین کی رپورٹ بذات خود کسی جرم کا ثبوت نہیں ہوتی۔
کمیٹی نے پاکستان میری ٹائم زونز ایکٹ 2023 کی دفعہ 28 کے تحت بحری قزاقی کو بھی انسداد منی لانڈرنگ قانون میں بنیادی جرائم کی فہرست میں شامل کرنے کی منظوری دی۔ اس سے مراد ایسے جرائم ہیں جن سے حاصل ہونے والی رقم منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا موضوع بن سکتی ہے۔
پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی (PVARA) کو بھی قانون کے تحت تسلیم شدہ نگران اداروں میں شامل کرنے کی منظوری دی گئی، تاکہ ورچوئل اثاثوں کے شعبے میں متعلقہ تقاضوں پر عمل درآمد کی نگرانی کی جاسکے۔
فنانشل مانیٹرنگ یونٹ (FMU) لین دین کی رپورٹس وصول کرکے ان کا تجزیہ کرتا ہے اور ضرورت پڑنے پر مزید ریکارڈ طلب کرسکتا ہے۔
وزیر خزانہ نے اداروں کے درمیان بہتر رابطے اور یونٹ کی صلاحیت بڑھانے کے لیے واضح مدت کے ساتھ عملی منصوبہ تیار کرنے پر زور دیا۔
رپورٹ میں نئی حد اور قانونی تبدیلیوں کے نفاذ کے لیے درکار نوٹیفکیشنز کی تاریخ نہیں بتائی گئی۔





