لاہور: پاکستان کی کپاس اور ٹیکسٹائل کی صنعتیں شدید دباؤ کا شکار ہیں، جہاں صنعتی نمائندوں کے مطابق فیکٹریوں کی بڑے پیمانے پر بندش کے باوجود 15 اکتوبر تک کپاس کی آمد میں سالانہ بنیادوں پر 7.53 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) کے اعداد و شمار کے مطابق کپاس کی آمد 38 لاکھ گانٹھوں سے بڑھ کر 40 لاکھ 80 ہزار گانٹھیں ہوگئی، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے کے دوران یہ مقدار 38 لاکھ گانٹھیں تھی۔
پنجاب میں کپاس کی آمد 7.79 فیصد اضافے کے ساتھ 16 لاکھ 40 ہزار گانٹھیں رہی، جبکہ سندھ میں 7.35 فیصد اضافے کے بعد یہ مقدار 24 لاکھ 40 ہزار گانٹھوں تک پہنچ گئی۔
تاہم، صنعتی نمائندوں نے فیکٹریوں کی بندش کی وجوہات میں پیداواری لاگت میں اضافے اور ایکسپورٹ فیسلیٹیشن اسکیم (ای ایف ایس) کے مبینہ غلط استعمال کو قرار دیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت اہل کاروباری اداروں کو برآمدات کے لیے مصنوعات تیار کرنے کی غرض سے خام مال اور دیگر ضروری اشیا درآمد کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔
کاٹن جنرز فورم کے چیئرمین احسان الحق نے الزام عائد کیا کہ دوبارہ برآمد کرنے کے لیے درآمد کیا جانے والا دھاگا اور کپڑا مقامی مارکیٹ میں فروخت کیا جا رہا ہے، جس سے ملکی صنعت کاروں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
ان کے اندازے کے مطابق اس اسکیم کے تحت چین سے 4 کروڑ سے 5 کروڑ میٹر کپڑا درآمد کیا گیا، تاہم اس کے نتیجے میں برآمدات میں اسی تناسب سے اضافہ نہیں ہوا۔
آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کے اعداد و شمار کے مطابق مصنوعی دھاگے کی درآمدات مالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی میں 3,056 ٹن سے بڑھ کر مالی سال 2026-27 کی اسی سہ ماہی میں 12,773 ٹن ہوگئیں۔ اسی دوران مصنوعی کپڑے کی درآمدات بھی 660 ٹن سے بڑھ کر 8,628 ٹن تک پہنچ گئیں۔
احسان الحق نے کہا کہ بڑھتی ہوئی لاگت اور درآمد شدہ اشیا کی مبینہ طور پر مقامی مارکیٹ میں فروخت نے ملکی صنعت کاروں کو کمزور کردیا ہے، جو مقامی فروخت پر 18 فیصد سیلز ٹیکس ادا کرتے ہیں۔
اپٹما نے اسکیم کے مبینہ غلط استعمال کے خلاف کسٹمز حکام کی کارروائی کا خیرمقدم کرتے ہوئے ای ایف ایس کے تحت مصنوعی دھاگے اور کپڑے کی درآمدات محدود کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق تقریباً 500 جننگ فیکٹریاں اور 150 سے زائد ٹیکسٹائل ملیں بند ہوچکی ہیں، جبکہ پاکستان کے تقریباً نصف پاور لومز بھی غیر فعال ہیں۔
پی سی جی اے کے اعداد و شمار کے مطابق 15 اکتوبر تک ملک بھر میں 471 جننگ فیکٹریاں کام کر رہی تھیں۔ ٹیکسٹائل ملیں تقریباً 34 لاکھ 50 ہزار گانٹھیں خرید چکی تھیں، جبکہ برآمد کنندگان نے 97 ہزار گانٹھیں خریدیں۔ اس طرح 5 لاکھ 31 ہزار 530 گانٹھیں فروخت کے بغیر باقی تھیں۔
کاٹن جنرز فورم نے کپاس کی پیداوار کے تخمینوں پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ احسان الحق نے خبردار کیا کہ موسمی حالات کے باعث پیداوار ابتدائی اندازوں سے کم رہ سکتی ہے۔ انہوں نے پی سی جی اے اور پنجاب کراپ رپورٹنگ سروس کے اعداد و شمار میں فرق کی بھی نشاندہی کی۔
پنجاب کراپ رپورٹنگ سروس نے صوبے میں کپاس کی پیداوار کا تخمینہ 29 لاکھ 83 ہزار گانٹھیں لگایا، جبکہ 15 اکتوبر تک پی سی جی اے کے مطابق پنجاب میں کپاس کی آمد 16 لاکھ 38 ہزار گانٹھیں ریکارڈ کی گئی۔
ملتان میں واقع سینٹرل کاٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے شعبہ ٹرانسفر آف ٹیکنالوجی کے سربراہ ساجد محمود نے کہا کہ کپاس کی پیداوار بحال کرنے کی کوششوں میں کسانوں کی آمدنی، کاشت کے اخراجات، منڈیوں تک رسائی اور ریشے کے معیار پر توجہ دینا ضروری ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر متبادل فصلوں سے بہتر منافع ملتا رہا تو کسان اگلے سیزن میں کپاس کے زیرِ کاشت رقبے میں کمی کرسکتے ہیں۔
ساجد محمود نے بتایا کہ کپاس چننے کے لیے مزید 15 سے 20 دن باقی ہیں۔ انہوں نے کسانوں پر زور دیا کہ وہ پیداوار اور معیار برقرار رکھنے کے لیے زرعی ماہرین کی ہدایات پر عمل کریں۔ انہوں نے گلابی سنڈی کے حملے کی نگرانی، پکے ہوئے ٹینڈوں کو بروقت چننے اور آلودگی سے بچاؤ کے لیے خشک موسم میں کپاس کی چنائی کرنے کا مشورہ بھی دیا۔
ان کے مطابق کپاس کے شعبے کی کارکردگی کا جائزہ جننگ فیکٹریوں تک پہنچنے والی کپاس کی مقدار کے بجائے فی ایکڑ کسان کی خالص آمدنی کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے۔
کراچی کاٹن بروکرز فورم کے رہنما نسیم عثمان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اعلان کردہ امدادی قیمت کے ساتھ کپاس کی خریداری کا نظام بھی قائم کیا جائے، تاکہ مارکیٹ میں قیمت مقررہ سطح سے نیچے آنے کی صورت میں حکومت خود کپاس خرید سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومتی اقدامات سے کپاس کی غیر دستاویزی تجارت کم کرنے اور پیداوار کے مستند اعداد و شمار میں اضافے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
کپاس کی صنعت کو درپیش فوری چیلنج یہ ہے کہ ملکی پیداوار کو معاشی طور پر قابلِ عمل بنایا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ برآمدات سے متعلق اسکیموں کے تحت درآمد کی جانے والی اشیا صرف انہی مقاصد کے لیے استعمال ہوں جن کے لیے انہیں درآمد کیا گیا ہے۔





