موغادیشو: صومالیہ کے ساحل کے قریب بحری قزاقی میں دوبارہ اضافہ خلیج عدن اور مغربی بحر ہند میں تجارتی جہازوں کے لیے خطرہ بن رہا ہے۔ اس سے ایسے خطے میں جہاز رانی کی مشکلات بڑھ رہی ہیں جو پہلے ہی تنازعات سے متاثر ہے۔
خلیج عدن آبنائے باب المندب کے ذریعے بحر ہند کو بحیرہ احمر سے ملاتی ہے۔ یہ نہر سوئز اور یورپی منڈیوں کی جانب جانے والے جہازوں کے لیے اہم راستہ ہے۔
تنازعات کی نگرانی کرنے والے ادارے اے سی ایل ای ڈی نے فروری 2026 سے اگست میں جاری اپنے جائزے تک پنٹ لینڈ کے ساحل کے ساتھ بحری قزاقی سے متعلق کم از کم 10 واقعات ریکارڈ کیے، جن میں چھ جہازوں پر قبضے کے واقعات شامل تھے۔ ادارے کے تجزیہ کاروں کے مطابق قزاق اپنی کارروائیاں خلیج عدن کے وسیع علاقے تک بڑھا رہے ہیں۔
یہ خطرہ پاکستانی جہاز رانوں کے لیے بھی اہم ہے۔ پنٹ لینڈ حکام کے مطابق ستمبر کے آخر میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ٹینکر ایم ٹی آنر 25 کو بازیاب کرانے سے پہلے قزاقوں نے عملے کے پانچ ارکان کو قتل کردیا، جن میں تین پاکستانی شامل تھے۔ ٹینکر کو اپریل میں اغوا کیا گیا تھا۔
ایک اور واقعے میں صومالیہ کی وزارت دفاع نے کہا کہ ترک اور صومالی فورسز نے اگست میں قزاقوں کے قبضے سے ایم وی لطف نامی جہاز آزاد کرایا۔
رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ کی ستمبر میں شائع ہونے والی تحقیق نے بحری قزاقی میں اضافے کو علاقائی تنازعات کی جانب بحری وسائل منتقل ہونے، تجارتی راستوں میں تبدیلی اور صومالیہ میں مسلسل عدم تحفظ سے جوڑا۔
ادارے نے کہا کہ بحری قزاقی کی سرگرمیوں میں کمی کے باوجود اس کی معاونت کرنے والے نیٹ ورک برقرار رہے۔ ساحلی آبادیوں میں محدود معاشی مواقع اور بنیادی سہولتوں کی کمی ان کے کام کرنے کے لیے حالات پیدا کرتی رہی ہے۔
تاہم ادارے کے مطابق موجودہ سرگرمیاں تقریباً 15 برس پہلے کے بحران کی شدت سے اب بھی کم ہیں۔
جہاز رانی کی کمپنیوں کے لیے یہ خطرہ راستوں اور جہازوں پر حفاظتی انتظامات کا دوبارہ جائزہ لینے کی ضرورت بڑھاتا ہے۔ جہازوں پر قبضہ عملے کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالتا ہے اور تاخیر، بیمے اور حفاظتی اقدامات کے اخراجات بڑھا سکتا ہے۔





