واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار 18 اکتوبر کو کہا کہ وہ فی الحال روس کے خلاف اضافی اقدامات کی دستاویز پر دستخط نہیں کریں گے، کیونکہ اس سے یوکرین جنگ ختم کرنے کے مذاکرات متاثر ہوسکتے ہیں۔
ٹروتھ سوشل پر بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ کوئی ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہتے جو ماسکو کو مذاکرات کی میز سے دور کردے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بات چیت میں نمایاں پیش رفت ہورہی ہے اور وہ بعد میں کسی بھی وقت دستاویز پر دستخط کرسکتے ہیں۔
ٹرمپ نے یرغمالیوں سے متعلق مذاکرات کا بھی ذکر کیا، تاہم نہ تفصیلات دیں اور نہ متعلقہ افراد کی شناخت بتائی۔
ان کا بیان روس اور اس کی توانائی خریدنے والے ممالک کے خلاف نئی پابندیوں اور محصولات کے نفاذ میں تاخیر پر تنازع کے دوران سامنے آیا ہے۔
کانگریس کے منظور کردہ اقدامات میں روسی حکام، بینکوں اور توانائی کے تاجروں پر پابندیاں، جبکہ روسی تیل اور گیس درآمد کرنے والے ممالک پر بھاری محصولات کا امکان شامل ہے۔
ٹرمپ نے ایران کے لیے روس کی محدود مدد کو بھی ماسکو پر مزید دباؤ نہ بڑھانے کی وجہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں روس کی جانب سے ایران کی معاونت محدود رہے۔
امریکی صدر نے روسی تیل اور ڈیزل ریفائنریوں پر حملوں کے باعث یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کارروائیوں سے عالمی ایندھن منڈی متاثر اور کسانوں اور کاروباروں کے اخراجات بڑھ رہے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ روس عالمی منڈی کو کم قیمت پر بڑی مقدار میں ڈیزل فراہم کررہا ہے اور زیلنسکی پر جنگ ختم کرنے میں دلچسپی نہ رکھنے کا الزام عائد کیا۔
یوکرین اپنے حملوں کو روس کی جانب سے بجلی کی تنصیبات پر جاری حملوں کا جواب اور ماسکو کی جنگی آمدن محدود کرنے کی کوشش قرار دیتا ہے۔
زیلنسکی کا مؤقف ہے کہ روس پر دباؤ کم کرنے سے اسے جنگ طول دینے کی حوصلہ افزائی ہوگی۔
نئی پابندیوں میں تاخیر اور روسی ڈیزل کی درآمد کی اجازت سمیت ٹرمپ کی پالیسی پر یوکرین اور امریکا کی دونوں بڑی جماعتوں کے قانون ساز تنقید کرچکے ہیں۔





