پشاور: افغانستان کے ساتھ سرحدی گزرگاہوں کی طویل بندش خیبرپختونخوا میں کاروبار اور روزگار پر دباؤ بڑھا رہی ہے، جہاں تاجروں نے برآمدی منڈی سکڑنے، ٹرانسپورٹ کی سرگرمیاں محدود ہونے اور بھاری مالی نقصانات کی شکایت کی ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان جھڑپوں کے بعد 12 اکتوبر 2025 سے طورخم، خرلاچی، غلام خان، انگور اڈہ اور چمن کے راستے تجارت معطل ہے۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ کابل سے رابطوں میں پیش رفت کے لیے افغان سرزمین سے سرگرم دہشت گرد گروہوں کے خلاف ٹھوس کارروائی ضروری ہے۔
ڈان میں نقل کردہ ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق دوطرفہ تجارت مالی سال 2024 سے 2025 کے ایک ارب 30 کروڑ ڈالر سے کم ہوکر 2025 سے 2026 میں 35 کروڑ 80 لاکھ ڈالر رہ گئی۔
علیحدہ طور پر جولائی میں جاری اعدادوشمار کے مطابق افغان ٹرانزٹ ٹریڈ بھی طالبان کی واپسی سے پہلے تقریباً پانچ ارب ڈالر مالیت کے 89000 کنٹینرز سے گھٹ کر گزشتہ مالی سال 36 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کے 11592 کنٹینرز رہ گئی۔
سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر جنید الطاف نے کہا کہ بندش نے خیبرپختونخوا کی پہلے سے موجود معاشی مشکلات بڑھا دی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بندرگاہوں اور بین الاقوامی تجارتی مراکز سے دوری کے باعث صوبے کے کاروبار پہلے ہی زیادہ اخراجات برداشت کرتے ہیں۔ افغان منڈی تک رسائی ختم ہونے سے صنعت کاروں، کارکنوں اور سرحدی آبادیوں کے مواقع مزید محدود ہوگئے ہیں۔
جنید الطاف نے ادویات کے شعبے کی اہمیت اجاگر کی۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق مالی سال 2023 سے 2024 میں افغانستان کو ادویات کی برآمدات تقریباً 13 کروڑ ڈالر تھیں۔
انہوں نے کہا کہ مقصد ہر قیمت پر تجارت یا غیر معینہ معاشی تنہائی نہیں، بلکہ محفوظ سرحدیں اور ضابطوں کے تحت تجارت ہونا چاہیے۔
زرعی پیداوار کے تاجر ملک سوہنی نے بتایا کہ پہلے روزانہ آلو کے 50 اور سبز سبزیوں کے 25 ٹرک افغانستان جاتے تھے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ آلو کی منڈی متاثر ہونے سے کاشت تقریباً نصف رہ گئی اور انہیں 18 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ محدود رسد آئندہ مہینوں میں قیمتیں بڑھا سکتی ہے۔
ٹرانسپورٹر عظیم اللہ نے کہا کہ بندش کے باعث انہیں اپنے پانچ میں سے تین ٹرک فروخت کرنا پڑے۔ ان کے مطابق دوسرے ملکی روٹس پر یہ گاڑیاں چلانا مالی طور پر قابل عمل نہیں۔
چیمبر کے ایک اور سابق صدر فواد اسحاق نے مختلف مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کو ترجیح ملنی چاہیے۔ ان کے مطابق افغانستان بھیجی جانے والی مصنوعات کے لیے دوسری منڈیاں تلاش کی جاسکتی ہیں اور تجارت پاکستان کی سلامتی پر سمجھوتہ کیے بغیر ہونی چاہیے





