اسلام آباد: وفاقی حکومت نے موسمِ سرما سے قبل ایل پی جی کی ممکنہ قلت اور بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خدشات کے پیش نظر آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور دیگر متعلقہ اداروں کو مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی مبینہ ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی ہے۔
یہ ہدایات ان اطلاعات کے بعد جاری کی گئی ہیں جن کے مطابق 11.8 کلوگرام کا گھریلو ایل پی جی سلنڈر تقریباً 5 ہزار روپے میں فروخت ہو رہا ہے، جو اوگرا کی مقرر کردہ قیمت 3 ہزار 296 روپے سے تقریباً 52 فیصد زیادہ ہے۔
اوگرا کے چیئرمین اور ڈائریکٹر جنرل ایل پی جی کو لکھے گئے خط میں پیٹرولیم ڈویژن نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ ملکی طلب کے مطابق ایل پی جی کی درآمد جاری رہنے کے باوجود درآمدی ٹرمینلز سے گیس کی متوقع مقدار باقاعدگی سے نہیں اٹھائی جا رہی۔
پیٹرولیم ڈویژن نے خبردار کیا کہ درآمدی ایل پی جی کی ترسیل میں تاخیر اس بات کی نشاندہی کر سکتی ہے کہ مارکیٹ میں گیس کی فراہمی محدود کرنے اور قیمتیں بڑھانے کے لیے ذخیرہ اندوزی کی جا رہی ہے۔
ڈویژن کے مطابق اس صورتحال سے پہاڑی، دور دراز اور بجلی یا گیس کے مرکزی نیٹ ورک سے محروم علاقوں کے صارفین متاثر ہو رہے ہیں، جہاں گھریلو ضروریات، کھانا پکانے اور حرارت حاصل کرنے کے لیے ایل پی جی پر انحصار کیا جاتا ہے۔
اوگرا کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ درآمدی ٹرمینلز سے ایل پی جی کی باقاعدہ ترسیل یقینی بنائے اور گیس کی قلت کا سامنا کرنے والے علاقوں تک اس کی فراہمی کے لیے اقدامات کرے۔
ریگولیٹری ادارے کو ذخیرہ اندوزی کے خلاف قانونی کارروائی کرنے اور صارفین کو حکومت کی مقرر کردہ قیمتوں پر ایل پی جی کی دستیابی یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
صوبائی حکومتوں اور بندرگاہوں کے انتظامی امور اور کسٹمز کلیئرنس کے ذمہ دار وفاقی اداروں سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ ایل پی جی کی فراہمی میں رکاوٹیں دور کرنے کے لیے باہمی تعاون سے اقدامات کریں۔
ایک بیان میں پیٹرولیم ڈویژن نے بتایا کہ حکومت مقامی سطح پر پیدا ہونے والی ایل پی جی کی تقسیم کے نظام میں تبدیلیوں پر بھی کام کر رہی ہے تاکہ چند کمپنیوں کے پاس گیس کی فراہمی کے ارتکاز کو کم کیا جا سکے۔
مجوزہ نظام کے تحت مقامی طور پر پیدا ہونے والی ایل پی جی کو مسابقتی طریقہ کار کے ذریعے تقسیم کیا جائے گا، جس کا مقصد مارکیٹ میں کام کرنے والی مختلف کمپنیوں کو گیس کی فراہمی تک رسائی فراہم کرنا ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق یہ طریقہ کار ایل پی جی پالیسی 2016 کے مطابق ہوگا اور اس میں پہاڑی اور دور دراز علاقوں تک گیس کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے بھی اقدامات شامل ہوں گے۔
ڈویژن نے مزید کہا کہ مجوزہ نظام کے ذریعے ایل پی جی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو اپنے وسائل پر مناسب منافع حاصل کرنے کا موقع ملے گا، جبکہ مارکیٹ میں گیس کی فراہمی چند کمپنیوں تک محدود رہنے کے رجحان میں کمی آئے گی۔
تاہم عدالتی مقدمات کے باعث اس نظام پر عمل درآمد میں تاخیر ہوئی ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے اور حکومت قانون کے تحت دستیاب قانونی راستے اختیار کر سکتی ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ ان اقدامات کا مقصد ایل پی جی کی تقسیم بہتر بنانا، قیمتوں سے متعلق مسائل حل کرنا اور موسمِ سرما میں طلب بڑھنے کے دوران صارفین کے مفادات کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔





