عامر شہزاد | پشاور بیورو | قوم نیوز
پشاور: خیبرپختونخوا میں ان دنوں سیاسی ماحول گرم ہے۔ صوبے میں 2013 سے برسراقتدار جماعت تحریک انصاف کی حکومت اس وقت ختم کی گئی جب صوبائی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت رکھنے والی جماعت کے وزیراعلیٰ نے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع کیا۔ لانگ مارچ کا آغاز لکی مروت سے ہوا اور مختلف اضلاع سے ہوتا ہوا 11 اکتوبر کو مردان پہنچا۔
تحریک انصاف اور وفاقی حکومت کے درمیان مذاکرات کے لیے کئی اہم نشستیں ہوئیں، مگر مختلف امور پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے تحریک انصاف کی قیادت کو لانگ مارچ ملتوی کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اس بار کسی بھی جتھے کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
مذاکرات ناکام ہونے پر وفاقی حکومت نے وزیراعظم کی ایڈوائس پر خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا، جس پر صدر مملکت نے عمل درآمد کرایا۔ سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں حفاظتی تحویل میں لیا گیا، جبکہ صوبے کے انتظامی معاملات کی ذمہ داری گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کو سونپ دی گئی۔
صوبے کے مجموعی حکومتی اور انتظامی امور چلانے کے لیے گورنر فیصل کریم کنڈی کی سربراہی میں 11 رکنی مشاورتی کونسل، یعنی ایڈوائزری کابینہ، تشکیل دی گئی ہے، جس میں مختلف شعبوں کے ٹیکنوکریٹس شامل ہیں۔
صوبے کے شورش زدہ اور پسماندہ 12 مخصوص اضلاع کے لیے الگ علاقائی ترقیاتی کونسل کا نظام بھی متعارف کرایا گیا ہے۔ ان میں آٹھ قبائلی اضلاع، جن میں شمالی و جنوبی وزیرستان، خیبر، باجوڑ، مہمند، کرم اور اورکزئی شامل ہیں، کے ساتھ بنوں، لکی مروت، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان بھی شامل ہیں۔
ہر ضلع سے جرگوں اور مشاورت کے ذریعے دو قبائلی عمائدین یا ملک منتخب کیے جا رہے ہیں، یوں یہ کونسل مجموعی طور پر 24 ارکان پر مشتمل ہوگی۔ اس کونسل یا اس کے سیکریٹریٹ کی سربراہی ایڈیشنل چیف سیکریٹری بطور ایڈمنسٹریٹر کریں گے، جبکہ ایڈیشنل آئی جی پولیس اور دیگر محکموں کے نمائندے بھی ان کے ساتھ شامل ہوں گے۔
اس کونسل کا بنیادی مقصد روایتی بیوروکریسی کو بائی پاس کرتے ہوئے سیکیورٹی یقینی بنانا، مقامی آبادی سے رابطے کے ذریعے ان کے مسائل براہ راست حکام تک پہنچانا اور ترقیاتی منصوبوں کو تیزی سے مکمل کرنا ہے۔
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی اور ان کی ٹیم کو ابتدائی تیاری مکمل کرنے کے لیے تین ماہ کا وقت دیا گیا ہے۔ آنے والے دنوں میں واضح ہوگا کہ نیا انتظام عوام کے لیے کس حد تک فائدہ مند ثابت ہوتا ہے اور سابقہ نظام کے مقابلے میں اس کی کارکردگی کیسی رہتی ہے۔
تاہم، صوبے میں اس بڑی تبدیلی کے بعد ایک اور تبدیلی کی بازگشت سنائی دینے لگی ہے، اور وہ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی ممکنہ تبدیلی ہے۔
ہمارے واقفان حال نے دعویٰ کیا ہے کہ فیصل کریم کنڈی کو جلد گورنر کے عہدے سے ہٹا دیا جائے گا۔ گزشتہ کئی روز سے سوشل میڈیا پر سابق وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ کے حوالے سے افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ انہیں خیبرپختونخوا کا نیا گورنر تعینات کیا جائے گا، تاہم واقفان حال کے مطابق ان خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔
واقفان حال کا کہنا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو فیصل کریم کنڈی کے بطور گورنر برقرار رہنے پر اعتراض ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ صوبے کی گورنرشپ ان کی جماعت کو دی جائے۔ اس سلسلے میں وہ وفاقی حکومت سے کئی بار مطالبہ بھی کر چکے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان اپنے قریبی رشتے دار اور سابق گورنر حاجی غلام علی کو دوبارہ اس عہدے پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے آج ایک تقریب میں کہا کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنرشپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ شدید ناراض ہیں۔
دوسری جانب، چند روز قبل اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے سینئر سیاست دان فیصل واوڈا نے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کو خبردار کیا تھا کہ اگر انہوں نے تین ماہ میں اپنی کارکردگی نہ دکھائی تو انہیں بھی تبدیل کر دیا جائے گا۔
واقفان حال کا کہنا ہے کہ فیصل کریم کنڈی اس وقت سخت مشکلات سے دوچار ہیں اور ان کے مستقبل کا فیصلہ جلد ہونے والا ہے۔ ان ذرائع کا دعویٰ ہے کہ خیبرپختونخوا کی گورنرشپ مولانا فضل الرحمان کی جماعت کو دی جائے گی، جس کے لیے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن سے بات چیت مکمل ہو چکی ہے۔





