پشاور: پشاور ہائی کورٹ نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج کے خلاف دائر درخواستوں کی ابتدائی سماعت کے لیے 20 اکتوبر کی تاریخ مقرر کر دی ہے۔
یہ درخواستیں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ (این ڈی ایم) کے رہنماؤں محسن داوڑ اور بشریٰ گوہر کی جانب سے دائر کی گئی ہیں۔
وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر کو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے گورنر راج لگا دیا تھا۔ حکومت نے اس فیصلے کی وجہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں صوبائی حکومت کے مبینہ عدم تعاون کو قرار دیا تھا۔
یہ فیصلہ وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان جاری سیاسی کشیدگی کے بعد سامنے آیا۔ پی ٹی آئی نے اپنے قید بانی عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بیرسٹر گوہر علی خان نے 14 اکتوبر کو آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت درخواست دائر کی، جس میں ایمرجنسی کے نفاذ کے اعلان اور اس کے نتیجے میں کیے گئے انتظامی اقدامات کو غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی گئی۔
انہوں نے خیبر پختونخوا اسمبلی کے قانون سازی کے اختیارات پارلیمنٹ کو منتقل کرنے کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ صوبائی اسمبلی نے آئین کے آرٹیکل 232(1) کے تحت مطلوبہ قرارداد منظور نہیں کی تھی۔
درخواست میں آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت فوجی اہلکاروں کی تعیناتی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد سہیل آفریدی کو وزارتِ اعلیٰ کے عہدے سے ہٹانے کے اقدام پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔
بیرسٹر گوہر نے صوبائی حکومت کے آئینی اختیارات بحال کرنے اور سہیل آفریدی سمیت صوبائی کابینہ اور اسمبلی کے زیرِ حراست ارکان کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے وفاقی حکومت کی جانب سے قائم کی گئی 11 رکنی خیبر پختونخوا ایڈوائزری کونسل کی تشکیل کو بھی چیلنج کیا۔ یہ کونسل صوبے کے انتظامی امور چلانے میں گورنر فیصل کریم کنڈی کی معاونت کے لیے قائم کی گئی تھی۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ صوبے کے 12 اضلاع میں ایریا ڈیولپمنٹ سیکرٹریٹ کے قیام کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔ اس کے علاوہ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد کی گئی انتظامی تقرریوں اور جاری کردہ احکامات کو بھی ختم کرنے کی درخواست کی گئی۔
بیرسٹر گوہر نے عدالت سے یہ بھی درخواست کی کہ وفاقی حکومت اور گورنر کو فیصلے کے جواز میں استعمال کیے گئے تمام ریکارڈ اور دستاویزات پیش کرنے کی ہدایت دی جائے، جن میں گورنر کی رپورٹ اور وفاقی کابینہ کی سمری بھی شامل ہیں۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے درکار آئینی بنیادیں موجود نہیں تھیں اور الزام عائد کیا کہ یہ فیصلہ سیاسی مقاصد کے تحت کیا گیا۔
دوسری جانب نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے رہنماؤں محسن داوڑ اور بشریٰ گوہر نے بھی 11 اکتوبر کے اعلان کو چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ اقدام صوبائی خودمختاری اور خیبر پختونخوا کے منتخب نمائندوں کے عوامی مینڈیٹ کے منافی ہے۔
ان کی درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ مقدمے کے حتمی فیصلے تک ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان معطل کیا جائے۔
درخواست گزاروں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ آیا ایمرجنسی کے نفاذ کے دوران آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 میں درج طریقہ کار کی پابندی کی گئی تھی یا نہیں۔
وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات سیکیورٹی خدشات اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں سے متعلق صوبائی انتظامیہ کے طرزِ عمل کے پیشِ نظر کیے گئے تھے۔
درخواستوں کی سماعت کرنے والے بینچ کی تشکیل کا اعلان تاحال نہیں کیا گیا۔
20 اکتوبر کو ہونے والی سماعت میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج کے تحت کیے گئے انتظامی فیصلوں کے خلاف دائر آئینی درخواستوں کا ابتدائی جائزہ لیا جائے گا۔





