اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے پنجاب حکومت کی جانب سے بلدیاتی انتخابات اپریل 2027 تک ملتوی کرنے کی تجویز مسترد کرتے ہوئے حکام کو پنجاب اور کنٹونمنٹ علاقوں کے لیے انتخابی شیڈول کے مسودے منظوری کے لیے پیش کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
یہ فیصلہ جمعرات کو چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں الیکشن کمیشن کے ارکان نثار احمد درانی، بابر حسن بھروانہ اور جسٹس ریٹائرڈ اکرام اللہ خان کے علاوہ سیکریٹری الیکشن کمیشن اور دیگر حکام نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران حکام نے کمیشن کو بتایا کہ پنجاب حکومت نے الیکشن کمیشن کے 2 اکتوبر کو جاری کردہ خط کا جواب 14 اکتوبر کو دیا، جس میں بلدیاتی انتخابات اپریل 2027 میں تین مراحل میں کرانے کی تجویز پیش کی گئی۔
صوبائی حکومت نے انتخابی شیڈول میں تبدیلی کی وجوہات بیان کرتے ہوئے دسمبر میں دھند اور سرد موسم، جبکہ فروری میں رمضان المبارک کے آغاز کا حوالہ دیا۔
تاہم الیکشن کمیشن نے پنجاب حکومت کا مؤقف مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ الیکشنز ایکٹ کی دفعہ 219(3) کے تحت صوبائی حکومت کے ساتھ مشاورت کا عمل 20 اگست کو مکمل ہو چکا تھا۔
اس مشاورت کے دوران پنجاب حکومت نے 15 دسمبر 2026 سے 15 جنوری 2027 کے درمیان بلدیاتی انتخابات کرانے پر اتفاق کیا تھا۔
الیکشن کمیشن نے پہلے سے طے شدہ انتخابی مدت میں تبدیلی کی کوشش پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات کا انعقاد اس کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے۔
اجلاس میں ہونے والی گفتگو کے بعد کمیشن نے متعلقہ دفتر کو ہدایت کی کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا مجوزہ شیڈول بلا تاخیر منظوری کے لیے پیش کیا جائے۔
چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے پنجاب حکومت کی جانب سے انتخابی انتظامات کے لیے درکار افسران کی فہرستیں فراہم نہ کرنے پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا۔
ان افسران میں ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران، ریٹرننگ افسران اور اسسٹنٹ ریٹرننگ افسران شامل ہیں، جو انتخابی عمل اور انتظامات کی نگرانی کے ذمہ دار ہوں گے۔
الیکشن کمیشن نے صوبائی حکومت کو ہدایت کی کہ انتخابی تیاریوں کو آگے بڑھانے کے لیے متعلقہ افسران کی فہرستیں سات روز کے اندر فراہم کی جائیں۔
اجلاس میں کنٹونمنٹ علاقوں میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں تاخیر کا بھی جائزہ لیا گیا۔
حکام نے کمیشن کو بتایا کہ 15 اپریل کو وزارت دفاع اور ملٹری لینڈز اینڈ کنٹونمنٹس ڈیپارٹمنٹ کے نمائندوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس منعقد ہوا تھا۔
اس مشاورت کے دوران الیکشن کمیشن نے وزارت دفاع سے کہا تھا کہ وہ وفاقی حکومت کو سمری ارسال کرے تاکہ کنٹونمنٹس ایکٹ 1924 کی دفعہ 19(D) کے تحت وفاقی حکومت باضابطہ طور پر الیکشن کمیشن سے کنٹونمنٹ علاقوں میں انتخابات کرانے کی درخواست کر سکے۔
تاہم متعدد یاد دہانیوں کے باوجود وزارت دفاع کی جانب سے کمیشن کو مطلوبہ درخواست موصول نہیں ہوئی۔
سکندر سلطان راجہ نے اجلاس کو بتایا کہ انہوں نے اس معاملے پر وزیراعظم کو بھی خط لکھا تھا، جس کے جواب کا تاحال انتظار ہے۔
اس تاخیر کے پیش نظر الیکشن کمیشن نے کنٹونمنٹ علاقوں میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کرتے ہوئے متعلقہ دفتر کو انتخابی شیڈول کا مسودہ منظوری کے لیے پیش کرنے کی ہدایت کی۔
کمیشن نے واضح کیا کہ وہ پنجاب اور کنٹونمنٹ علاقوں میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے متعلق اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داریاں پوری کرے گا۔
بلدیاتی انتخابات کی تاریخوں کا تعین مجوزہ انتخابی پروگراموں کے جائزے اور الیکشن کمیشن کی منظوری کے بعد کیا جائے گا۔





