اسلام آباد: ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قانون سازی کے باوجود پاکستان میں اقلیتی برادریوں کو امتیازی سلوک، تشدد، جبری شادیوں اور مذہبی آزادی پر پابندیوں کا سامنا ہے۔
کمیشن کی مذہبی آزادی سے متعلق ساتویں سالانہ رپورٹ، جس کا عنوان ’’پناہ سے محروم: مذہب یا عقیدے کی آزادی 2025/26‘‘ ہے، میں اقلیتی برادریوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا جائزہ لیا گیا اور ان کے تحفظ کے لیے بنائے گئے قوانین پر عمل درآمد میں موجود خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔
رپورٹ میں توہین مذہب کے قوانین کے غلط استعمال، جبری مذہب کی تبدیلی کے الزامات، نفرت انگیز تقاریر، ملازمتوں میں امتیازی سلوک اور عبادت گاہوں پر حملوں کے واقعات کو دستاویزی شکل دی گئی ہے۔
ایچ آر سی پی کے مطابق توہین مذہب کے الزامات کا سامنا کرنے والے متعدد افراد قانونی کارروائیوں میں پھنسے ہوئے ہیں، جبکہ ایسے منظم نیٹ ورک سے متعلق الزامات کی تحقیقات بھی تاحال نہیں کی گئیں جس پر لوگوں کو توہین مذہب کے مقدمات میں پھنسانے کا الزام ہے۔
رپورٹ میں احمدی برادری کے خلاف حملوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جن میں اکتوبر 2025 اور جون 2026 میں چناب نگر میں پیش آنے والے واقعات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ احمدیوں کی عوامی اور تجارتی سرگرمیوں میں شرکت پر عائد پابندیوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔
کمیشن کے مطابق مسیحی اور ہندو برادریوں سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کو اغوا، جبری شادیوں اور مذہب کی جبری تبدیلی جیسے مسائل کا سامنا ہے، جبکہ غربت اور پولیس کے غیر مؤثر ردعمل کے باعث ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔
رپورٹ کی تقریب رونمائی کے دوران ایچ آر سی پی کی ڈائریکٹر فرح ضیا نے مذہبی اقلیتوں کے ساتھ ریاستی رویے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ حکومتی پالیسیوں اور اقدامات میں اقلیتوں کو معاشرے سے الگ تھلگ کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔
اقلیتی حقوق کی کارکن نبیلہ فیروز بھٹی نے شیخوپورہ سے تعلق رکھنے والے مسیحی طبی معالج کامران گل کے واقعے کا حوالہ دیا، جن کی ڈسپنسری کو 9 اکتوبر کو سوشل میڈیا پر مبینہ توہین آمیز مواد شیئر کرنے کے الزامات کے بعد ایک مشتعل ہجوم نے آگ لگا دی تھی۔
ایچ آر سی پی پنجاب کے نائب چیئرمین راجہ اشرف نے کہا کہ توہین مذہب کے الزامات کو کمزور اور غیر محفوظ افراد کے استحصال اور انہیں دھمکانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
کمیشن کی سابق چیئرپرسن حنا جیلانی نے بھی ادارہ جاتی سطح پر امتیازی سلوک پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جمہوری نظام میں شہریوں کے درمیان مذہبی شناخت کی بنیاد پر تفریق نہیں ہونی چاہیے۔
کمیشن نے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہونے والی قانون سازی کو تسلیم کیا، جس میں قومی کمیشن برائے اقلیتیں ایکٹ 2025 اور پنجاب و بلوچستان میں شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کرنے کے قوانین شامل ہیں۔
تاہم رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ متعلقہ قانون کی منظوری کے باوجود قومی کمیشن برائے اقلیتیں تاحال تشکیل نہیں دیا گیا۔
ایچ آر سی پی نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ قومی کمیشن برائے اقلیتیں فوری طور پر قائم کیا جائے، اس کے چیئرمین اور ارکان کی تقرری کی جائے اور کمیشن کو فعال بنانے کے لیے ضروری قواعد و ضوابط مرتب کیے جائیں۔
کمیشن نے خیبر پختونخوا حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ مردوں اور خواتین دونوں کے لیے شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کرنے کے لیے قانون سازی کرے۔
رپورٹ میں توہین مذہب کے مقدمات، ہجوم کے تشدد، جبری مذہب کی تبدیلی کی شکایات اور جیلوں کی صورتحال سے متعلق سالانہ اعداد و شمار شائع کرنے کی سفارش کی گئی تاکہ شفافیت کو فروغ دیا جا سکے اور حکومتی اقدامات کی جانچ پڑتال ممکن ہو۔
کمیشن نے توہین مذہب کے مقدمات میں لوگوں کو منظم طریقے سے پھنسانے کے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے سفارش کی کہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 295 سی کے تحت درج مقدمات کی تحقیقات اعلیٰ عہدوں پر فائز افسران سے کرائی جائیں۔
ایچ آر سی پی نے پولیس اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) سمیت دیگر تفتیشی اداروں کے اہلکاروں کو مذہبی آزادی سے متعلق مقدمات کی مؤثر تحقیقات کے لیے خصوصی تربیت فراہم کرنے کی بھی تجویز دی۔
ملازمتوں میں امتیازی سلوک کے حوالے سے کمیشن نے ایسے بھرتی کے طریقہ کار کے خاتمے کا مطالبہ کیا جن کے باعث مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو غیر متناسب طور پر صفائی کے شعبے تک محدود رکھا جاتا ہے۔
رپورٹ میں متروکہ وقف املاک بورڈ میں اصلاحات کی بھی سفارش کی گئی تاکہ ادارے کی جوابدہی بہتر بنائی جا سکے اور اقلیتی برادریوں کی املاک اور مذہبی مقامات سے متعلق فیصلوں میں ان کی نمائندگی یقینی بنائی جا سکے۔
کمیشن نے حکام پر زور دیا کہ جبری مذہب کی تبدیلی اور کم عمری کی شادیوں کے الزامات سے منسلک اداروں کی نگرانی کی جائے۔ رپورٹ میں سفارش کی گئی کہ مذہب کی تبدیلی کا عمل عدالت یا کسی سرکاری افسر کی موجودگی میں انجام دیا جائے۔
تعلیم کے شعبے میں ایچ آر سی پی نے نصاب پر نظرثانی کا مطالبہ کیا تاکہ مذہبی تعصب کی حوصلہ شکنی کی جا سکے اور مختلف عقائد کے احترام، رواداری اور معاشرتی شمولیت کو فروغ دیا جا سکے۔
کمیشن نے تشدد پر اکسانے والے عناصر، خصوصاً سوشل میڈیا کے ذریعے نفرت پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی سفارش بھی کی، تاہم اس بات پر زور دیا کہ آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت اظہار رائے کی آزادی کا تحفظ برقرار رہنا چاہیے۔
رپورٹ میں ہجوم کے تشدد کی روک تھام کے لیے پولیس کے اقدامات مؤثر بنانے اور اقلیتی حقوق کے لیے کام کرنے والے انسانی حقوق کے کارکنوں، وکلا اور صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔
ایچ آر سی پی نے مذہبی آزادی سے متعلق سپریم کورٹ کے 2014 کے فیصلے پر مکمل عمل درآمد کا مطالبہ کیا، جس میں اقلیتوں کی عبادت گاہوں کا تحفظ اور امن و امان کے خدشات کے باعث بند کی گئی عبادت گاہوں کو دوبارہ کھولنے کے اقدامات شامل ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ کسی بھی عبادت گاہ کو متعلقہ فریقین کا مؤقف سننے کے بعد جاری کیے گئے عدالتی حکم کے بغیر منہدم نہیں کیا جانا چاہیے۔
کمیشن نے نتیجہ اخذ کیا کہ صرف قانون سازی سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ممکن نہیں، جب تک قوانین پر مؤثر عمل درآمد، ادارہ جاتی جوابدہی اور مذہبی شناخت سے قطع نظر تمام شہریوں کے ساتھ مساوی سلوک یقینی نہ بنایا جائے۔





