پشاور:قومی اسمبلی کے قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے دعویٰ کیا ہے کہ قید میں موجود بانی پی ٹی آئی عمران خان پر ایسا سیاسی معاہدہ قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے جو سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور بینظیر بھٹو سے متعلق ماضی کے انتظامات سے مماثلت رکھتا ہے۔
انہوں نے یہ الزام 16 اکتوبر کو پشاور ہائی کورٹ میں نیوز کانفرنس کے دوران عائد کیا۔
اس دعوے سے کسی معاہدے کی پیشکش، اس پر مذاکرات یا اسے قبول کیے جانے کی تصدیق نہیں ہوتی۔ زیرِ جائزہ رپورٹس میں مجوزہ انتظام کی مصدقہ شرائط یا اس الزام پر حکومت کا مخصوص جواب سامنے نہیں آیا۔
اچکزئی کا بیان عمران خان تک رسائی اور خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی و گورنر راج کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران آیا ہے۔
اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان نے 15 اکتوبر کو اعلان کیا تھا کہ عمران خان سے ملاقات اور ان کی صحت کے بارے میں معلومات ملنے تک حکومت سے مذاکرات معطل رہیں گے۔
اتحاد نے ان کے ڈاکٹروں کو رسائی دینے اور سہیل آفریدی، صوبائی اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی اور جنید اکبر سمیت گرفتار پی ٹی آئی رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا۔ حکومت سے مذاکرات کا اختیار اچکزئی کو دیا گیا۔
دوسری جانب اتحاد نے پشاور ہائی کورٹ میں ایمرجنسی اور گورنر راج کو چیلنج کرتے ہوئے ان کی تنسیخ کی درخواست دی ہے۔ درخواست میں صوبے کے نئے انتظامی ڈھانچے کی آئینی حیثیت پر بھی سوال اٹھایا گیا ہے۔
وفاقی حکومت صوبے میں مداخلت کو خراب ہوتی سلامتی کی صورتِ حال اور انسداد دہشت گردی میں رابطہ کاری کی کمی کی بنیاد پر ضروری قرار دیتی ہے۔
اچکزئی کا الزام ایک مبینہ سیاسی معاہدے سے متعلق ہے۔ حکومت کی جانب سے صوبائی مداخلت کے لیے پیش کردہ سلامتی کی وجوہ بذاتِ خود اس دعوے کی تصدیق یا تردید نہیں کرتیں۔





