پشاور: مولانا فضل الرحمٰن کی جماعت جمعیت علمائے اسلام فضل، جے یو آئی ف، نے خیبرپختونخوا کی مشاورتی کونسل میں شامل اپنے ارکان کو تین دن کے اندر مستعفی ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے شوکاز نوٹس جاری کر دیے ہیں۔
جماعت کے صوبائی ترجمان کے مطابق صوبائی مجلس عاملہ نے وفاقی حکومت کی جانب سے گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو غیر جمہوری اقدام اور جمہوریت کی نفی قرار دیا۔ اجلاس میں مشاورتی کونسل کے قیام کو بھی مسترد کیا گیا۔
ترجمان نے کہا کہ صوبائی امیر کی جانب سے کونسل میں شامل ان جماعتی ارکان کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں جنہوں نے اب تک استعفیٰ نہیں دیا۔ تین دن میں مستعفی نہ ہونے پر ان کی جماعتی رکنیت معطل تصور ہوگی۔
اجلاس میں مشیر اطلاعات کے مدارس سے متعلق بیان پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ شرکا نے کہا کہ مدارس کو دہشت گردی سے جوڑنا حقائق کے منافی اور افسوسناک ہے۔
جماعت نے کہا کہ مدارس امن، محبت اور رواداری کے مراکز ہیں اور انہوں نے دہشت گردی کے خلاف ریاست کا ساتھ دیا ہے، جبکہ سینکڑوں علمائے کرام خود دہشت گردی کا نشانہ بن کر جانیں گنوا چکے ہیں۔
شرکا نے مشیر اطلاعات کے بیان کو غیر سنجیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ قومی معاملات پر گفتگو میں ذمہ داری، شائستگی اور حقائق کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بیان سے مدارس اور مذہبی حلقوں میں غم و غصہ پیدا ہوا ہے اور اسے شہدا کی قربانیوں کو مجروح کرنے کی کوشش قرار دیا۔
اجلاس میں سوشل میڈیا پر جماعت اور مولانا فضل الرحمٰن کے خلاف مبینہ کردار کشی کی مہم پر بھی افسوس کا اظہار کیا گیا۔ جماعت نے الزام لگایا کہ بعض حلقے اور معاوضہ لینے والے وی لاگرز اس مہم میں شامل ہیں۔
شرکا نے کہا کہ جھوٹے بیانیے کے ذریعے مولانا فضل الرحمٰن اور جماعت کے کردار کو مسخ نہیں کیا جا سکتا۔





