اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے جمعرات کو خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد سہیل آفریدی کی بطور وزیراعلیٰ تقرری کے خلاف درخواست غیر مؤثر قرار دے کر نمٹا دی۔
چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس علی باقر نجفی پر مشتمل بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ عدالت نے کہا کہ صوبے میں حالیہ تبدیلیوں کے بعد درخواست پر کارروائی جاری نہیں رکھی جاسکتی۔
پی ٹی آئی کے ناراض رہنما شیر افضل مروت نے اکتوبر 2025 میں سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے استعفے اور ان کی جگہ سہیل آفریدی کی تقرری کو چیلنج کیا تھا۔
سماعت کے دوران مروت نے مختصر مہلت مانگتے ہوئے کہا کہ وہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو بھی چیلنج کرنا چاہتے ہیں۔ جسٹس نجفی نے کہا کہ یہ الگ معاملات ہیں، جبکہ آفریدی کی تقرری کے خلاف درخواست اب مؤثر نہیں رہی۔
مروت نے مؤقف اپنایا کہ ایمرجنسی اور گورنر راج ختم ہونے پر آفریدی دوبارہ وزیراعلیٰ بن سکتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایسی صورت میں وہ متفرق درخواست کے ذریعے اپنی پٹیشن بحال کرنے کی استدعا کرسکتے ہیں۔
بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں مروت نے کہا کہ وہ جمعے تک ایمرجنسی اور گورنر راج کے خلاف قانونی درخواست تیار کرلیں گے۔ انہوں نے پی ٹی آئی پر دہشت گردی کی سرپرستی کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی رہنما خود بھی دہشت گردی کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔
اصل درخواست میں مروت نے الزام لگایا تھا کہ گنڈاپور نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہدایت پر استعفیٰ دیا، اس لیے اسے رضاکارانہ فیصلہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ انہوں نے گنڈاپور کی بحالی کی استدعا کی تھی۔
وفاقی حکومت نے اتوار کو صوبائی حکومت پر انسداد دہشت گردی کی کوششوں سے دانستہ لاتعلقی کا الزام لگاتے ہوئے ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا تھا۔ آفریدی اور ان کی کابینہ کے بعض ارکان بدستور حفاظتی حراست میں ہیں۔





