منیلا: مغربی بحرالکاہل میں سپر ٹائیفون چمپی ہواؤں کی رفتار کے لحاظ سے 2026 کا اب تک کا طاقتور ترین استوائی طوفان بن گیا ہے، جس میں ہواؤں کی بلند ترین رفتار تقریباً 296 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچی۔
دی ویدر نیٹ ورک کے مطابق چمپی نے ہواؤں کی رفتار میں ہریکین پولو کو پیچھے چھوڑ دیا، تاہم پولو کے مرکز میں فضائی دباؤ زیادہ کم تھا۔ اس فرق سے واضح ہوتا ہے کہ طوفانوں کی درجہ بندی استعمال ہونے والے پیمانے کے مطابق بدل سکتی ہے۔
فلپائن میں چمپی کو روزال کہا جاتا ہے۔ ہریکین اور ٹائیفون بنیادی طور پر ایک ہی نوعیت کے استوائی سمندری طوفان ہیں، تاہم مختلف سمندری خطوں میں ان کے نام مختلف ہوتے ہیں۔
اپنی بلند ترین شدت پر چمپی کی ہوائیں کیٹیگری فائیو کے مساوی تھیں۔ یہ درجہ بندی ہوا کی شدت ظاہر کرتی ہے، جبکہ نقصان کا انحصار بارش، بلند لہروں اور ساحلی علاقوں میں پانی چڑھنے پر بھی ہوتا ہے۔
اس رپورٹ کے لیے دیکھے گئے فلپائنی محکمہ موسمیات کے تازہ بلیٹن کے مطابق طوفان باتانیس کے باسکو سے تقریباً 495 کلومیٹر مشرق میں تھا اور 20 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے شمال مغرب کی جانب بڑھ رہا تھا۔
محکمے نے مسلسل ہواؤں کی رفتار 195 اور جھکڑوں کی رفتار 240 کلومیٹر فی گھنٹہ بتائی، جو اس کی سابقہ بلند ترین شدت سے کم ہے۔
اس لیے 296 کلومیٹر فی گھنٹہ کا وسیع پیمانے پر گردش کرنے والا عدد طوفان کی بلند ترین شدت کو ظاہر کرتا ہے، ہر تازہ مرحلے کی رفتار کو نہیں۔
21 اکتوبر کی رات جاری پیش گوئی میں چمپی کے شمال اور پھر شمال مشرق کی جانب مڑ کر جاپان کی طرف بڑھنے کا امکان ظاہر کیا گیا۔ چند روز بعد کیوشو سے ٹکرانے کی پیش گوئی بھی کی گئی، تاہم راستے اور وقت میں غیر یقینی صورت حال برقرار ہے۔
ٹھنڈے پانی اور مختلف بلندیوں پر ہواؤں کی رفتار و سمت میں فرق کے باعث طوفان کی شدت مزید کم ہونے کی توقع ہے۔
شدت میں کمی خطرے کے مکمل خاتمے کے مترادف نہیں۔ فلپائنی محکمہ موسمیات نے خطرناک سمندری حالات کے باعث متاثرہ پانیوں میں جہازوں کو بندرگاہوں میں رہنے یا محفوظ پناہ لینے کی ہدایت کی ہے۔
ساحلی آبادیوں کے لیے طوفان کی عالمی درجہ بندی سے زیادہ اہم اس کے مقامی اثرات ہیں، جو راستے، رفتار اور موسم کی بدلتی صورت حال کے ساتھ تبدیل ہوسکتے ہیں۔





