اسلام آباد میں خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ ن کے پارلیمانی ارکان سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ صوبے میں 11 اکتوبر کو ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا گیا، کیونکہ ان کے مطابق صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ سے الگ ہو گئی تھی۔
شہباز شریف نے سوال اٹھایا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے خصوصی این ایف سی انتظام کے تحت خیبر پختونخوا کو ملنے والے سینکڑوں ارب روپے کہاں خرچ کیے گئے؟
انہوں نے پوچھا کہ صوبے میں کتنے سیف سٹی منصوبے شروع ہوئے، محکمہ انسدادِ دہشت گردی کو مضبوط بنانے کے لیے کتنی رقم خرچ کی گئی اور پولیس کی تقریباً 5 ہزار خالی آسامیوں پر اب تک بھرتی کیوں نہیں ہوئی؟
وزیراعظم نے کہا کہ اگر پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں پر 80 ارب روپے بھی خرچ کیے جاتے تو ان کی دہشت گردی سے نمٹنے کی صلاحیت کہیں بہتر ہوتی۔
انہوں نے پی ٹی آئی کی جانب سے ڈیم، سولر پاور منصوبوں، اسپتالوں، جامعات اور اسکولوں کے وعدوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پشاور، کوہستان، ہزارہ اور جنوبی خیبر پختونخوا کے بیشتر علاقوں کے عوام بتائیں گے کہ ان کی بنیادی ضروریات کس حد تک پوری ہوئیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ 2018 تک خیبر پختونخوا میں دہشت گردی پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام، پولیس اور سکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بڑی قربانیاں دیں۔
وزیراعظم کے مطابق دہشت گردی کے باعث پاکستان میں تقریباً 80 ہزار افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ ملکی معیشت کو تقریباً 15 ہزار ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔
انہوں نے پی ٹی آئی حکومت پر الزام عائد کیا کہ افغانستان سے دہشت گردوں کو لا کر سوات میں آباد کیا گیا، جس کے نتیجے میں دہشت گردی نے دوبارہ زور پکڑا۔
شہباز شریف نے بتایا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی کمیٹیوں نے پی ٹی آئی کے ساتھ 48 گھنٹے مذاکرات کیے تھے اور ایک معاہدے کا مسودہ بھی تیار کر لیا گیا تھا، تاہم ان کے مطابق اُس وقت کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی منظوری نہیں مل سکی۔
وزیراعظم نے گورنر راج کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔ ان کے مطابق فیصلہ بروقت کیا گیا، کیونکہ تاخیر کی صورت میں صوبے کو مزید نقصان پہنچ سکتا تھا۔
انہوں نے خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ ن کے ارکان کو ہدایت کی کہ فی الحال بڑے اور طویل مدتی منصوبوں کے بجائے ایسے کاموں پر توجہ دی جائے جن سے عوام کو فوری فائدہ پہنچے۔
شہباز شریف نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ امن و امان کی صورتحال بہتر بنانا، اسکول تعمیر کرنا اور اسپتالوں میں ادویات کی دستیابی یقینی بنانا ایسے اقدامات ہیں جن سے 6 ماہ سے ایک سال کے اندر لوگوں کی زندگیوں میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔





