لاہور: پاکستان نے ہفتے کے روز قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے ون ڈے ٹرائی سیریز کے فائنل میں سری لنکا کو 3 وکٹوں سے شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کرلیا۔
پاکستان کی کامیابی میں فخر زمان کی 127 رنز کی شاندار اننگز اور عرفات منہاس کی 31 گیندوں پر 61 رنز کی دھواں دار بیٹنگ نے اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان کو آخری دو رنز درکار تھے جب اسیتھا فرنینڈو نے مسلسل دو گیندوں پر عرفات منہاس اور فہیم اشرف کو آؤٹ کردیا، تاہم شاہین آفریدی نے فاتحانہ رنز بنا کر پاکستان کو کامیابی دلادی۔ حسن نواز 37 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔
ہدف کے تعاقب میں پاکستان کا آغاز انتہائی مایوس کن رہا۔ دلشان مدوشنکا نے معاذ صداقت کو 5 اور بابر اعظم کو بغیر کوئی رن بنائے پویلین بھیج دیا۔ دونوں کھلاڑی پون رتھنائیکے کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے، جس کے بعد پاکستان چوتھے اوور میں 14 رنز پر دو وکٹیں گنوا چکا تھا۔
اس موقع پر فخر زمان اور سعد بیگ نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے تیسری وکٹ کے لیے 149 رنز کی شراکت قائم کی۔ سعد بیگ نے 75 گیندوں پر 74 رنز بنائے، جس میں 11 چوکے شامل تھے۔ انہیں مہیش تھیکشانا نے کیچ اینڈ بولڈ کیا۔
فخر زمان نے 84 گیندوں پر اپنی سنچری مکمل کی، تاہم وہ 99 گیندوں پر 127 رنز بنا کر مدوشنکا کی گیند پر بولڈ ہوگئے۔ ان کی اننگز میں 11 چوکے اور 6 چھکے شامل تھے۔ مدوشنکا نے 56 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں۔
سلمان علی آغا 17 رنز بنا کر دنیتھ ویلالاگے کا شکار بنے تو پاکستان کا اسکور 37 اوورز میں 230 رنز پر 5 وکٹیں تھا اور جیت کے لیے مزید 79 گیندوں پر 96 رنز درکار تھے۔
اس موقع پر حسن نواز اور عرفات منہاس نے چھٹی وکٹ کے لیے 94 رنز کی اہم شراکت قائم کی۔ عرفات نے صرف 28 گیندوں پر اپنی دوسری ون ڈے نصف سنچری مکمل کی۔ انہوں نے 48ویں اوور میں اسیتھا فرنینڈو کو مسلسل دو چھکے لگانے کے بعد ایک چوکا بھی جڑا، تاہم وہ 61 رنز بنا کر کیچ آؤٹ ہوگئے۔ ان کی اننگز میں 3 چوکے اور 4 چھکے شامل تھے۔ اگلی ہی گیند پر فہیم اشرف بھی کیچ آؤٹ ہوگئے۔
اس سے قبل سری لنکا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 8 وکٹوں کے نقصان پر 325 رنز بنائے۔ کامندو مینڈس نے 128 گیندوں پر 131 رنز کی اننگز کھیل کر اپنے ون ڈے کیریئر کی پہلی سنچری اسکور کی، جبکہ پون رتھنائیکے نے 65 گیندوں پر 77 رنز بنائے۔ دونوں نے تیسری وکٹ کے لیے 146 رنز کی شراکت قائم کرکے 42ویں اوور تک سری لنکا کا اسکور 255 رنز تک پہنچا دیا تھا۔
تاہم اس کے بعد پاکستانی بولرز نے شاندار واپسی کرتے ہوئے سری لنکن بیٹنگ کو محدود کردیا۔ شاہین شاہ آفریدی، نسیم شاہ، سلمان علی آغا اور حارث رؤف نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں۔
پاکستان نے اس میچ میں شاداب خان کے بغیر میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا، جو گزشتہ میچ میں سری لنکا کے خلاف باؤنسر لگنے کے بعد طبی وجوہات کی بنا پر فائنل سے باہر ہوگئے تھے۔ ان کی جگہ فہیم اشرف کو ٹیم میں شامل کیا گیا۔
واضح رہے کہ اس کامیابی سے صرف چار روز قبل سری لنکا نے لاہور ہی میں پاکستان کو 110 رنز پر آؤٹ کرکے 8 وکٹوں سے شکست دی تھی اور اسی فتح کے نتیجے میں فائنل کے لیے کوالیفائی کیا تھا۔





