اسلام آباد: ایپل کے فولڈ ایبل اسمارٹ فون آئی فون ڈوئو کو پاکستانی مارکیٹ میں متعارف کرانے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ ایپل کے مجاز ڈسٹری بیوٹر مرکنٹائل پاکستان کی جانب سے جاری کردہ قیمتوں کے مطابق فون کے بنیادی ماڈل کی قیمت 8 لاکھ 99 ہزار 999 روپے جبکہ سب سے زیادہ اسٹوریج والے ماڈل کی قیمت 13 لاکھ 90 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔
ڈسٹری بیوٹر کے مطابق فون کی فروخت پاکستانی وقت کے مطابق صبح 8 بجے شروع ہوگی۔ تمام ماڈلز پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) سے منظور شدہ ہوں گے اور ان کے ساتھ ایپل کی ایک سال کی آفیشل وارنٹی بھی فراہم کی جائے گی۔
پاکستان میں اس فون کی فروخت کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بیرونِ ملک بعض صارفین نے خریداری کے چند گھنٹوں کے اندر ہی فون کی اسکرین میں دراڑیں پڑنے اور ڈسپلے خراب ہونے کی شکایات کی ہیں۔
پاکستان میں آئی فون ڈوئو کی قیمتیں
مرکنٹائل پاکستان کی جانب سے جاری کردہ فہرست کے مطابق آئی فون ڈوئو چار مختلف اسٹوریج ماڈلز میں دستیاب ہوگا۔
اسٹوریج | پاکستان میں قیمت |
|---|---|
256 جی بی | 8 لاکھ 99 ہزار 999 روپے |
512 جی بی | 9 لاکھ 80 ہزار روپے |
1 ٹی بی | 11 لاکھ 45 ہزار روپے |
2 ٹی بی | 13 لاکھ 90 ہزار روپے |
فون کے بنیادی اور سب سے زیادہ اسٹوریج والے ماڈل کی قیمتوں میں 4 لاکھ 90 ہزار ایک روپے کا فرق ہے۔
اعلان کردہ قیمتوں میں پی ٹی اے کی منظوری شامل ہے، جس کا مطلب ہے کہ صارفین کو پاکستانی موبائل نیٹ ورکس پر فون استعمال کرنے کے لیے الگ سے ڈیوائس رجسٹریشن کا عمل مکمل کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
ایپل کی ایک سالہ آفیشل وارنٹی کے تحت اہل صارفین متعلقہ خرابیوں کی صورت میں سروس حاصل کر سکیں گے۔ تاہم اسکرین کو پہنچنے والے مخصوص نوعیت کے نقصان کی وارنٹی میں شمولیت کا انحصار کمپنی کی شرائط اور خرابی کی وجوہات پر ہوگا۔
عالمی سطح پر فروخت کے بعد اسکرین خراب ہونے کی شکایات
پاکستان میں فون کی قیمتوں کے اعلان کے ساتھ ہی بیرونِ ملک اس کے فولڈ ایبل ڈسپلے میں خرابی کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
ٹیکنالوجی سے متعلق ویب سائٹس اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شیئر کی گئی معلومات کے مطابق بعض خریداروں نے فون کے قبضے کے قریب اسکرین میں دراڑیں پڑنے، ڈسپلے پر لکیریں ظاہر ہونے اور اس کے کچھ حصوں کے کام نہ کرنے کی شکایات کی ہیں۔
آسٹریلیا میں ایک صارف نے دعویٰ کیا کہ خریداری کے تقریباً چھ گھنٹے بعد ہی اس کے فون کی اندرونی اسکرین میں دراڑ پڑ گئی۔
صارف کے مطابق اس نے فون کو 20 مرتبہ سے بھی کم کھولا اور بند کیا تھا کہ ایک مرتبہ اسے کھولتے ہوئے قبضے کے قریب رکاوٹ محسوس ہوئی، جس کے بعد ٹوٹنے جیسی آواز آئی۔
اس کے بیان کے مطابق شکایت درج کرانے پر ایپل اسٹور نے خراب فون کی جگہ نیا فون فراہم کر دیا۔
اسی نوعیت کی مزید شکایات اور تصاویر بھی آن لائن سامنے آئی ہیں، تاہم انفرادی واقعات کے حالات و واقعات کی مکمل طور پر آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
فولڈ ایبل اسمارٹ فونز کی پائیداری پر سوالات
آئی فون ڈوئو کے ذریعے ایپل نے فولڈ ایبل اسمارٹ فونز کی مارکیٹ میں قدم رکھا ہے، جہاں سام سنگ، گوگل اور دیگر کمپنیاں پہلے ہی اس نوعیت کے فون متعارف کرا چکی ہیں۔
روایتی اسمارٹ فونز کے برعکس فولڈ ایبل فونز میں لچکدار ڈسپلے اور مخصوص مکینیکل قبضے استعمال کیے جاتے ہیں، جن کی مدد سے اسکرین کو بار بار کھولا اور بند کیا جا سکتا ہے۔
ان حصوں کو دباؤ، گردوغبار اور فولڈنگ میکانزم کے اطراف ممکنہ نقصان سے بچانے کے لیے اضافی حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔
ٹیکنالوجی سے متعلق یوٹیوب چینل JerryRigEverything چلانے والے زیک نیلسن نے بھی آئی فون ڈوئو کی پائیداری جانچنے کے لیے مختلف تجربات کیے۔
آزمائش کے دوران مبینہ طور پر گردوغبار اور ریت فون کے قبضے میں داخل ہو گئے، جس کے باعث اسے مکمل طور پر بند کرنے میں دشواری پیش آئی۔
ایک الگ تجربے میں فون کو موڑ کر اس کی مضبوطی جانچی گئی، جس کے نتیجے میں اندرونی ڈسپلے کو نقصان پہنچا۔
تاہم ان تجربات میں فون کو معمول کے استعمال سے زیادہ دباؤ اور مختلف حالات کا سامنا کرنا پڑا، اس لیے ان نتائج کی بنیاد پر یہ طے نہیں کیا جا سکتا کہ روزمرہ استعمال میں بھی اسی نوعیت کی خرابیاں پیدا ہوں گی۔
پاکستانی خریداروں کے لیے ان شکایات کی اہمیت
اسکرین خراب ہونے کی اطلاعات ایسے صارفین کے لیے اہم ہیں جو تقریباً 9 لاکھ سے 13 لاکھ 90 ہزار روپے تک کی قیمت میں یہ فون خریدنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
اس قیمت کے فون میں فولڈ ایبل ڈسپلے کی خرابی کی صورت میں مرمت یا اسکرین تبدیل کرنے کے اخراجات ایک اہم معاملہ ہو سکتے ہیں، خصوصاً اگر متعلقہ نقصان وارنٹی میں شامل نہ ہو۔
مرکنٹائل پاکستان کے اعلان میں پی ٹی اے کی منظوری اور ایک سالہ آفیشل وارنٹی کی تصدیق کی گئی ہے، تاہم فراہم کردہ معلومات میں اسکرین کی تبدیلی کے اخراجات یا قبضے سے متعلق رپورٹ ہونے والی خرابیوں کی مفت مرمت کے بارے میں وضاحت موجود نہیں۔
ایپل نے تاحال عوامی سطح پر یہ واضح نہیں کیا کہ رپورٹ ہونے والے واقعات کی وجہ فون کی تیاری میں نقص، ڈیزائن سے متعلق مسئلہ یا انفرادی طور پر پہنچنے والا نقصان ہے۔
متاثرہ فونز کی مجموعی تعداد بھی معلوم نہیں ہو سکی، جس کے باعث یہ تعین کرنا مشکل ہے کہ آیا یہ شکایات کسی بڑے تکنیکی مسئلے کی نشاندہی کرتی ہیں یا چند مخصوص ڈیوائسز تک محدود ہیں۔
بین الاقوامی مارکیٹوں سے سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق بعض متاثرہ صارفین کو متبادل فون فراہم کیے گئے ہیں، جبکہ خراب ہونے والی ڈیوائسز کا تکنیکی معائنہ بھی کیا جا سکتا ہے۔
پاکستانی صارفین کے لیے فون کی تیاری میں ممکنہ نقص اور حادثاتی طور پر پہنچنے والے نقصان کے درمیان فرق اہم ہوگا، کیونکہ اسی بنیاد پر وارنٹی کے تحت مرمت یا متبادل فون کی فراہمی سے متعلق فیصلے کیے جا سکتے ہیں۔
پاکستان میں فون کی اعلان کردہ قیمتوں، آفیشل ڈسٹری بیوشن اور بیرونِ ملک سامنے آنے والی شکایات کے بعد اس کی فروخت کے ساتھ فراہم کی جانے والی سروس اور وارنٹی کی سہولیات بھی توجہ کا مرکز بن گئی ہیں۔




