کراچی: بیسٹ وے گروپ نے ہفتہ، 24 اکتوبر کو چین کی گاڑیاں بنانے والی کمپنی جیلی آٹو (Geely Auto) کو باضابطہ طور پر پاکستان میں متعارف کرا دیا۔ اس شراکت داری کے تحت گاڑیوں کی تقسیم، مقامی سطح پر اسمبلنگ اور فروخت کے بعد خدمات فراہم کی جائیں گی۔
اسلام آباد میں منعقدہ افتتاحی تقریب میں بیسٹ وے گروپ اور جیلی آٹو کے نمائندوں نے شرکت کی۔ گروپ کی ذیلی کمپنی بیسٹ وے آٹوموٹیو کو پاکستان میں جیلی آٹو کا واحد مجاز ڈسٹری بیوٹر مقرر کیا گیا ہے، جو گاڑیوں کی فروخت، ڈیلرشپ نیٹ ورک اور فروخت کے بعد خدمات کی نگرانی کرے گی۔
کمپنی نے کراچی کے پورٹ قاسم میں واقع پروٹون کا سابقہ اسمبلی پلانٹ بھی خرید لیا ہے، جسے جیلی گاڑیوں کی مقامی پیداوار کے لیے تیار کیا جائے گا۔
جیلی کی کون سی گاڑیاں پاکستان میں متعارف کرائی جا رہی ہیں؟
کمپنی نے الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں کی تین اقسام متعارف کرائی ہیں۔
جیلی EX2 ایک چھوٹی الیکٹرک ہیچ بیک گاڑی ہے، جسے شہری علاقوں میں سفر کے لیے تیار کیا گیا ہے، جبکہ EX5 ایک الیکٹرک اسپورٹس یوٹیلٹی وہیکل (SUV) ہے۔
تیسرا ماڈل اسٹارے (Starray) ہے، جس میں الیکٹرک موٹر اور پیٹرول انجن کو یکجا کرنے والی ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے۔ اس نظام کے ذریعے گاڑی صرف بیٹری پر انحصار کیے بغیر زیادہ فاصلہ طے کر سکتی ہے۔
بیسٹ وے کا منصوبہ ہے کہ ابتدائی طور پر درآمد شدہ گاڑیاں فروخت کی جائیں، جس کے بعد مقامی سطح پر اسمبلنگ شروع کی جائے گی۔
پورٹ قاسم میں واقع اسمبلی پلانٹ تقریباً 24.71 ایکڑ رقبے پر مشتمل ہے اور اس میں سالانہ 25 ہزار گاڑیاں اسمبل کرنے کی موجودہ صلاحیت موجود ہے۔
کمپنی کا ہدف 2027 کے دوران پاکستان میں اسمبل کی گئی جیلی گاڑیاں متعارف کرانا ہے، تاہم پیداوار شروع کرنے کا حتمی شیڈول ابھی جاری نہیں کیا گیا۔
مقامی پیداوار اور چارجنگ نیٹ ورک کے منصوبے
بیسٹ وے گروپ کے منیجنگ ڈائریکٹر عرفان شیخ نے کہا کہ کمپنی کی حکمت عملی میں گاڑیوں کی مقامی پیداوار کو فروغ دینا اور الیکٹرک گاڑیوں کے لیے چارجنگ کا بنیادی ڈھانچہ تیار کرنا شامل ہے۔
گروپ ملک بھر میں ڈیلرشپ نیٹ ورک قائم کرنے کا بھی ارادہ رکھتا ہے، جبکہ مجاز مراکز کے ذریعے گاڑیوں کی مرمت، دیکھ بھال اور صارفین کو دیگر خدمات فراہم کی جائیں گی۔
کمپنی کے اعلان کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں کے لیے چارجنگ نیٹ ورک بیسٹ وے رینیوایبل ٹیکنالوجیز کے ذریعے تیار کیا جائے گا۔
بیسٹ وے گروپ کے مطابق گزشتہ تین برسوں کے دوران پاکستان میں 35 کروڑ امریکی ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی گئی ہے، جس سے اس کے مختلف کاروباری شعبوں میں تقریباً 20 ہزار ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔
گروپ پہلے ہی سیمنٹ کی پیداوار اور بینکاری سمیت مختلف شعبوں میں کاروبار کر رہا ہے۔
جیلی آٹو انٹرنیشنل کارپوریشن کے نائب صدر ایون یی نے کہا کہ پاکستان جنوبی ایشیا میں کمپنی کی پہلی مارکیٹ ہے۔
انہوں نے سیٹلائٹ ٹیکنالوجی میں جیلی کی سرمایہ کاری کا بھی ذکر کیا، جس میں زمین کے نچلے مدار میں موجود سیٹلائٹس کا نیٹ ورک شامل ہے۔
جیلی کی آمد پاکستان کی آٹو موبائل صنعت کے لیے کیا اہمیت رکھتی ہے؟
جیلی آٹو ایسے وقت میں پاکستانی مارکیٹ میں داخل ہوئی ہے جب ملک میں الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیاں پیش کرنے والی چینی کمپنیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔
اس پیش رفت سے گاڑیاں اسمبل اور درآمد کرنے والی موجودہ کمپنیوں کے درمیان مسابقت میں اضافہ ہوگا، خصوصاً ان گاڑیوں کی مارکیٹ میں جو روایتی پیٹرول انجن کے متبادل نظام استعمال کرتی ہیں۔
مقامی سطح پر اسمبلنگ کی جانب پیش رفت سے گاڑیوں کے پرزے فراہم کرنے والے اداروں اور آٹو موبائل صنعت سے وابستہ کارکنوں کے لیے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ تاہم اس کا انحصار پیداوار کے حجم اور پاکستان میں تیار کردہ پرزوں کے استعمال کی شرح پر ہوگا۔
دوسری جانب درآمد شدہ گاڑیوں سے مقامی پیداوار کی طرف منتقلی کا انحصار پیداواری انتظامات، مارکیٹ میں طلب اور کمپنی کی جانب سے مینوفیکچرنگ سہولیات میں سرمایہ کاری پر ہوگا۔
الیکٹرک گاڑیوں کی مارکیٹ میں توسیع کے ساتھ چارجنگ کے بنیادی ڈھانچے کی ضرورت بھی اہمیت اختیار کر رہی ہے، کیونکہ پیٹرول سے چلنے والی گاڑیوں سے الیکٹرک گاڑیوں کی طرف منتقل ہونے والے صارفین کے لیے چارجنگ کی سہولت ایک اہم عنصر ہے۔
بیسٹ وے نے تاحال تینوں ماڈلز کی پاکستان میں حتمی قیمتوں، بکنگ شروع ہونے کی تاریخوں یا گاڑیوں کی فراہمی کے شیڈول کا اعلان نہیں کیا۔
ان تفصیلات کے ساتھ مقامی پیداوار کے آغاز، چارجنگ نیٹ ورک کی دستیابی اور فروخت کے بعد فراہم کی جانے والی خدمات سے یہ واضح ہوگا کہ کمپنی پاکستانی صارفین کے لیے اپنی گاڑیاں کس طرح مارکیٹ میں پیش کرے گی۔





