اسلام آباد: خیبرپختونخوا کے ضلع خیبر میں پولیو کا ایک اور کیس سامنے آنے کے بعد پاکستان میں رواں سال رپورٹ ہونے والے پولیو کیسز کی مجموعی تعداد آٹھ تک پہنچ گئی ہے۔
نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر برائے انسداد پولیو (NEOC) نے یکم نومبر کو نئے کیس کی تصدیق کی۔
محکمہ صحت کے مطابق متاثرہ بچی کی عمر 13 ماہ ہے اور اس کا تعلق ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ کی یونین کونسل جانباز بی سے ہے۔
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (NIH) اسلام آباد کی ریجنل ریفرنس لیبارٹری نے بچی میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق کی۔
یہ رواں سال ضلع خیبر میں پولیو کا دوسرا جبکہ خیبرپختونخوا میں چھٹا کیس ہے۔
صوبے میں اب تک رپورٹ ہونے والے چھ کیسز میں سے تین ضلع بنوں، دو ضلع خیبر اور ایک شمالی وزیرستان سے سامنے آیا ہے۔
ملک بھر میں 2026 کے دوران پولیو کے آٹھ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جن میں چھ خیبرپختونخوا اور دو سندھ سے تعلق رکھتے ہیں۔
پشاور اور خیبر میں وائرس کی موجودگی برقرار
انسداد پولیو حکام کے مطابق رواں سال ملک میں مجموعی طور پر پولیو وائرس کے پھیلاؤ میں کمی آئی ہے، تاہم پشاور اور خیبر پر مشتمل علاقے میں ماحولیاتی نمونوں کے نتائج مثبت آنے کا سلسلہ جاری ہے۔
ان نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ متعلقہ علاقوں میں وائرس کی گردش برقرار ہے اور بچوں کو پولیو سے متاثر ہونے کا خطرہ موجود ہے۔
پاکستان پولیو کے خاتمے کے لیے کام کرنے والے ان ممالک میں شامل ہے جہاں جنگلی پولیو وائرس کی منتقلی مکمل طور پر نہیں روکی جا سکی۔
پولیو ایک متعدی بیماری ہے جو بالخصوص پانچ سال سے کم عمر بچوں کو متاثر کرتی ہے اور بعض صورتوں میں مستقل معذوری کا سبب بن سکتی ہے۔
اس بیماری سے بچاؤ کے لیے پولیو ویکسین کی بروقت اور مکمل خوراکیں ضروری ہیں۔
97 اضلاع میں انسداد پولیو مہم کا آغاز
پاکستان پولیو کے خاتمے کے پروگرام نے نئے کیس کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ متاثرہ اور قریبی علاقوں میں مزید حفاظتی اقدامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق 2 سے 8 نومبر تک ملک کے 97 اضلاع میں انسداد پولیو مہم چلائی جائے گی، جس کے دوران تقریباً دو کروڑ 40 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اس مہم میں دو لاکھ سے زیادہ پولیو ورکرز حصہ لیں گے، جبکہ پاکستان اور افغانستان میں سرحد پار رابطہ کاری کے ساتھ حفاظتی سرگرمیاں انجام دی جائیں گی۔
اس سے قبل ستمبر کی انسداد پولیو مہم کے دوران ملک بھر میں دو کروڑ 93 لاکھ سے زیادہ بچوں کو حفاظتی قطرے پلائے گئے تھے۔
حکام کے مطابق رواں سال پاکستان میں چار بڑی انسداد پولیو مہمات کے ذریعے ساڑھے چار کروڑ سے زیادہ بچوں تک متعدد مرتبہ رسائی حاصل کی جا چکی ہے۔
تازہ کیس کے بعد ضلع خیبر سمیت متاثرہ علاقوں میں ویکسینیشن اور نگرانی کا عمل مزید اہم ہوگیا ہے تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔




