مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے تیار کیے گئے وائرس پہلی بار ایک انسانی مریض کے علاج کے لیے استعمال کیے گئے ہیں۔ اس تجرباتی علاج میں اومنی ون (Omnii-1) نامی اے آئی ماڈل کی مدد سے تیار کردہ وائرس استعمال کیے گئے، جن کا مقصد اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مزاحمت کرنے والے بیکٹیریا کو ختم کرنا ہے۔
امریکی بائیوٹیکنالوجی اسٹارٹ اپ کمپنی ریڈیکل نیومیرکس (Radical Numerics) نے یہ ماڈل تیار کیا ہے۔ اومنی ون خود کوئی وائرس نہیں بلکہ ایک مصنوعی ذہانت کا نظام ہے جو سائنس دانوں کو حیاتیاتی معلومات سمجھنے اور مخصوص بیکٹیریا کو نشانہ بنانے والے وائرس تیار کرنے میں مدد دیتا ہے۔
یہ وائرس بیکٹیریوفیجز (Bacteriophages) کہلاتے ہیں۔ یہ قدرتی طور پر ایسے وائرس ہوتے ہیں جو بیکٹیریا کو متاثر کرکے انہیں ختم کر سکتے ہیں، جبکہ انسانی خلیوں کو نشانہ نہیں بناتے۔
اومنی ون اے آئی کیسے کام کرتا ہے؟
اومنی ون ایک ایسا اے آئی ماڈل ہے جسے ڈی این اے، آر این اے اور پروٹین سمیت مختلف حیاتیاتی معلومات کو سمجھنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق اس ماڈل کی تربیت کے لیے حیاتیاتی معلومات کی بڑی مقدار استعمال کی گئی ہے، جس میں 28 مختلف اقسام کا ڈیٹا شامل ہے۔ اس کی مدد سے یہ نظام جانداروں کے اندر موجود مختلف حیاتیاتی اجزا کے درمیان تعلق کو سمجھنے اور ان کے ممکنہ رویوں کی پیش گوئی کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
اس کی ایک ایپلی کیشن اومنی فیج (Omnii Phage) خاص طور پر ایسے وائرس تیار کرنے پر توجہ دیتی ہے جو مخصوص اقسام کے بیکٹیریا کو نشانہ بنا سکیں۔
عام طور پر سائنس دانوں کو کسی مریض کے انفیکشن کا سبب بننے والے بیکٹیریا کے خلاف مؤثر وائرس تلاش کرنے کے لیے مختلف قدرتی وائرسوں کی جانچ کرنا پڑتی ہے۔ یہ عمل وقت لے سکتا ہے کیونکہ ایک وائرس ہر قسم کے بیکٹیریا کے خلاف مؤثر نہیں ہوتا۔
اومنی ون اس عمل کو تیز اور زیادہ مخصوص بنانے میں مدد دیتا ہے۔ یہ وائرس کے جینیاتی مواد میں تبدیلیوں کے ڈیزائن اور ان کے ممکنہ اثرات کا اندازہ لگانے میں مدد کرتا ہے۔ اس کے بعد سائنس دان لیبارٹری میں ان ڈیزائنز کی جانچ کرتے ہیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ آیا یہ وائرس مطلوبہ بیکٹیریا کو ختم کر سکتے ہیں یا نہیں۔
اومنی ون خبروں میں کیوں ہے؟
ریڈیکل نیومیرکس کے مطابق، اس کے اے آئی ماڈل کی مدد سے تیار کیے گئے بیکٹیریوفیجز ایک انسانی مریض کے تجرباتی علاج میں استعمال کیے گئے۔
علاج سے پہلے محققین نے مریض کے جسم سے حاصل کیے گئے بیکٹیریا کے نمونوں پر ان وائرسوں کی جانچ کی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وائرسوں کے امتزاج نے لیبارٹری میں اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مزاحمت کرنے والے بیکٹیریا کو ختم کردیا۔
اس کے بعد مریض کو خصوصی طبی اجازت کے تحت یہ تجرباتی علاج دیا گیا۔ ایسے پروگرام کے ذریعے سنگین بیماریوں میں مبتلا مریضوں کو اس وقت تجرباتی علاج فراہم کیا جا سکتا ہے جب ان کے لیے مؤثر متبادل دستیاب نہ ہوں۔
تاہم کمپنی نے مریض کی موجودہ حالت یا علاج کے بعد سامنے آنے والے نتائج کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔ اس لیے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس علاج سے مریض مکمل طور پر صحت یاب ہوگیا ہے۔
کیا اے آئی سے تیار کردہ وائرس اینٹی بائیوٹکس کی جگہ لے سکتے ہیں؟
اس پیش رفت سے ان مریضوں کے علاج کے لیے ایک نیا راستہ سامنے آسکتا ہے جن کے انفیکشن عام اینٹی بائیوٹکس سے قابو میں نہیں آتے۔
تاہم فی الحال یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ اے آئی سے تیار کردہ وائرس روایتی اینٹی بائیوٹکس کی جگہ لے سکتے ہیں۔ ہر وائرس مخصوص بیکٹیریا کے خلاف مؤثر نہیں ہوتا، جبکہ لیبارٹری میں کامیاب نتائج لازمی طور پر انسانی جسم میں بھی کامیابی کی ضمانت نہیں دیتے۔
ان علاجوں کی حفاظت اور افادیت ثابت کرنے کے لیے مزید تحقیق اور طبی تجربات کی ضرورت ہوگی۔
فی الحال اومنی ون طبی تحقیق میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کی ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس کا پہلا رپورٹ ہونے والا انسانی استعمال مستقبل میں ایسے مریضوں کے لیے مخصوص علاج تیار کرنے کی نئی امید پیدا کرتا ہے جن کے انفیکشن دستیاب ادویات سے قابو میں نہیں آتے۔





