اسلام آباد: پاکستان میں انٹرنیٹ صارفین کو دو نومبر تک مصروف اوقات میں سست رفتار کا سامنا ہوسکتا ہے۔ پی ٹی سی ایل سے منسوب خبروں کے مطابق اس کی وجہ ایک بین الاقوامی زیرسمندر کیبل پر ہنگامی مرمت ہے۔
پروپاکستانی کے مطابق ایشیا افریقہ یورپ ون، یعنی اے اے ای ون، کیبل کے اٹلی اور فرانس کے درمیان حصے پر کام 27 اکتوبر کو شروع ہوا۔ کمپنی نے مصروف اوقات میں سروس کے معیار میں معمولی کمی کا امکان ظاہر کیا ہے۔
زیرسمندر کیبل سمندر کی تہہ میں بچھائی گئی فائبر آپٹک لائن ہوتی ہے، جو ممالک کے درمیان ڈیٹا منتقل کرتی ہے۔ اے اے ای ون جنوب مشرقی ایشیا کو مصر کے راستے یورپ سے ملاتی ہے اور کراچی میں بھی اس کا رابطہ مرکز موجود ہے۔
اسی لیے یورپ میں ہونے والا کام پاکستان کے صارفین کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔ جب کسی راستے کی گنجائش کم ہوتی ہے تو ڈیٹا کو دوسرے راستوں سے بھیجنا پڑسکتا ہے۔ ان پر دباؤ بڑھنے سے ویب سائٹس کھلنے، ویڈیو چلنے یا فائل منتقل ہونے میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے، خصوصاً جب بیک وقت زیادہ لوگ انٹرنیٹ استعمال کررہے ہوں۔
ہر شہر، کمپنی یا صارف پر یکساں اثر پڑنا ضروری نہیں۔ پاکستان ٹوڈے کے پرافٹ کے مطابق اثر کا انحصار ڈیٹا کے راستوں اور متبادل گنجائش پر ہوگا۔ مختلف انٹرنیٹ کمپنیوں کی سروس کس حد تک متاثر ہوگی، اس کی تصدیق نہیں ہوئی۔
صارفین کو ویڈیو میں رکاوٹ، کال کے دوران تعطل یا بڑی فائل اپ لوڈ کرنے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ یہ ممکنہ اثرات ہیں؛ تمام صارفین کے متاثر ہونے کی تصدیق نہیں۔
دستیاب اطلاعات ہر مقامی شکایت کو اس مرمت سے منسلک نہیں کرتیں اور نہ ہی ملک گیر انٹرنیٹ بندش ثابت کرتی ہیں۔ دو نومبر مرمت کی بتائی گئی آخری تاریخ ہے؛ مکمل بحالی کے لیے کام ختم ہونے کی تصدیق ضروری ہوگی۔





