اسلام آباد: عالمی انوویشن انڈیکس 2026 میں پاکستان چار درجے بہتری کے ساتھ 139 معیشتوں میں 95ویں نمبر پر آگیا ہے۔ ڈان نے عالمی ادارہ برائے حقوقِ دانش، وائپو، کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان نے توقعات سے بہتر اختراعی کارکردگی دکھانے والے ملک کی حیثیت بھی دوبارہ حاصل کرلی ہے۔
پاکستان 2025 میں 99ویں نمبر پر تھا۔ رواں سال اسے کم اور متوسط آمدنی والی 36 معیشتوں میں 15واں اور وسطی و جنوبی ایشیا کی 11 معیشتوں میں آٹھواں مقام ملا۔
توقعات سے بہتر کارکردگی کا مطلب کیا ہے؟
اس درجہ بندی کا مطلب ہے کہ پاکستان نے اپنی معاشی ترقی کی سطح کے مقابلے میں توقع سے بہتر اختراعی نتائج پیدا کیے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان اختراع کے میدان میں دنیا کے سرفہرست ممالک میں شامل ہوگیا ہے۔
رپورٹ میں موبائل ایپس کی تیاری، انفارمیشن اور کمیونی کیشن ٹیکنالوجی کی خدمات کی برآمدات، جدید ٹیکنالوجی کی درآمدات اور سافٹ ویئر پر اخراجات کو پاکستان کی نمایاں صلاحیتوں میں شمار کیا گیا۔
سائنسی اشاعتوں اور جامعات کے معیار کو بھی ترقی کرتی ڈیجیٹل معیشت کے لیے معاون قرار دیا گیا۔
وسائل کے مقابلے میں نتائج بہتر
پاکستان اختراع کے لیے دستیاب وسائل اور سازگار حالات کی درجہ بندی میں 121ویں، جبکہ اختراعی نتائج میں 72ویں نمبر پر رہا۔ دونوں شعبوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں بہتری ہوئی۔
اختراع کے وسائل سے مراد تعلیم، تحقیق، بنیادی ڈھانچہ اور مالی سہولتیں ہیں، جو نئے خیالات کو عملی شکل دینے میں مدد دیتی ہیں۔ نتائج سے مراد ان کوششوں سے سامنے آنے والی ٹیکنالوجی، علم اور تخلیقی مصنوعات ہیں۔
سادہ الفاظ میں پاکستان کی کارکردگی نتائج پیدا کرنے میں، ان نتائج کے لیے دستیاب وسائل اور نظام کے مقابلے میں بہتر رہی۔
گزشتہ برسوں میں پاکستان کی پوزیشن میں اتار چڑھاؤ آیا ہے۔ ملک 2020 میں 107ویں نمبر پر تھا، 2022 میں 87ویں مقام تک پہنچا اور 2025 میں 99ویں نمبر پر آگیا۔ رواں سال اس کی پوزیشن بہتر ہوکر 95ویں ہوگئی۔
سوئٹزرلینڈ بدستور سرفہرست
سوئٹزرلینڈ مسلسل 16ویں سال پہلے نمبر پر رہا، جبکہ سویڈن دوسرے اور امریکا تیسرے نمبر پر آئے۔ جنوبی کوریا اور سنگاپور نے بالترتیب چوتھی اور پانچویں پوزیشن حاصل کی۔
چین 10ویں نمبر پر برقرار رہا اور سرفہرست 25 اختراعی معیشتوں میں متوسط آمدنی والا واحد ملک تھا۔
عالمی سطح پر رپورٹ میں اختراع کی پیش رفت جاری رہنے، مگر اس کی رفتار سست ہونے کی نشاندہی کی گئی۔ سائنسی پیداوار، کاروباری اداروں کی تحقیق و ترقی اور ٹیکنالوجی کے استعمال میں بہتری آئی، تاہم جانچے گئے تقریباً تین چوتھائی اشاریے گزشتہ دہائی کی اوسط رفتار سے پیچھے رہے۔
وائپو نے کہا کہ پاکستان سمیت ابھرتی معیشتیں اپنی نمایاں صلاحیتوں کو مزید مضبوط کرکے مجموعی اختراعی کارکردگی بہتر بنا سکتی ہیں۔





