ایک ایسا اسکول جو صرف سرکاری کاغذات میں موجود ہے، لیکن اس کے کمروں میں کوئی بچہ پڑھنے نہیں آتا۔ ایک ایسی عمارت جو تعلیم کے لیے بنائی گئی تھی، مگر اب گودام، جانوروں کے باڑے یا ویران عمارت میں تبدیل ہو چکی ہے۔ پاکستان میں لاکھوں بچوں کے لیے فعال اسکول کی عدم موجودگی محض حکومتی پالیسیوں کی ناکامی نہیں بلکہ تعلیم حاصل کرنے اور بہتر مستقبل بنانے کی راہ میں ایک رکاوٹ بھی ہے۔
پنجاب، اندرون سندھ اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ایسے اسکولوں کا مشاہدہ برطانوی نژاد پاکستانی فلم ساز سیماب گل کے لیے فلم گھوسٹ اسکول بنانے کی تحریک بنا۔
فلم کی کہانی رابعہ نامی ایک کم عمر لڑکی کے گرد گھومتی ہے، جو یہ جاننے کی کوشش کرتی ہے کہ اس کے گاؤں کا واحد اسکول کیوں بند کر دیا گیا۔ اس کہانی کے ذریعے ایک ایسا سوال اٹھایا گیا ہے جو فلم کے کرداروں اور واقعات سے کہیں آگے جاتا ہے: جب کوئی اسکول غیر فعال ہو جاتا ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہوتا ہے، اور تعلیم سے محروم رہ جانے والے بچوں کو جواب کون دے گا؟
ایک خصوصی انٹرویو میں سیماب گل نے فلم کی تیاری کے پس منظر، سندھ فلم سینسر بورڈ کے ساتھ قانونی تنازع اور سندھ ہائیکورٹ تک پہنچنے والی عدالتی کارروائی پر گفتگو کی۔ انہوں نے اس ضرورت پر بھی زور دیا کہ پاکستان میں ایسے اسکولوں کی نشاندہی کی جائے جو حقیقت میں فعال ہیں اور ان اداروں کی بھی جو صرف سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
رابعہ کو گھوسٹ اسکول کی کہانی کا مرکزی کردار کیوں بنایا گیا؟
سیماب گل کے مطابق ایک کم عمر لڑکی کو فلم کا مرکزی کردار بنانا ان کا سوچا سمجھا تخلیقی فیصلہ تھا، جس کی بنیاد ایک خاتون کی حیثیت سے ان کے اپنے تجربات تھے۔
انہوں نے بتایا کہ وہ رابعہ کے نقطہ نظر کو زیادہ مؤثر انداز میں پیش کر سکتی تھیں اور ایک ایسی لڑکی کو پردے پر دکھانا چاہتی تھیں جو بڑوں کے فیصلوں پر سوال اٹھانے کی ہمت رکھتی ہو۔
سیماب گل نے اس بات پر بھی گفتگو کی کہ بین الاقوامی ناظرین فلموں کے ذریعے مختلف معاشروں اور اپنے لیے غیر مانوس تجربات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
جرمنی میں فلم کی نمائش کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ بعض ناظرین ابتدا میں گھوسٹ اسکول کو ایک کم عمر لڑکی کے بارے میں بھوتوں کی کہانی سمجھ رہے تھے۔
وہ گھوسٹ اسکول کی اصطلاح سے واقف نہیں تھے، جو پاکستان میں ایسے تعلیمی اداروں کے لیے استعمال ہوتی ہے جو سرکاری ریکارڈ میں موجود تو ہوتے ہیں، مگر بند پڑے ہوتے ہیں، جہاں عملہ موجود نہیں ہوتا یا باقاعدہ تدریسی سرگرمیاں نہیں ہوتیں۔
ان کے مطابق اس ردعمل سے اندازہ ہوا کہ پاکستان میں ایک معروف مسئلہ دوسرے ممالک کے ناظرین کے لیے کس قدر غیر مانوس ہو سکتا ہے۔
فلم پر پابندی سے سندھ ہائیکورٹ تک کا سفر
سیماب گل کی فلم کو پاکستانی ناظرین تک پہنچانے کی کوشش اس وقت قانونی تنازع میں تبدیل ہو گئی جب سندھ فلم سینسر بورڈ نے ابتدائی طور پر اسے عوامی نمائش کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔
سیماب گل کے مطابق وہ اس فیصلے پر حیران تھیں۔ جب انہوں نے انسٹاگرام پر اس معاملے کا ذکر کیا تو وکلا نے ان سے رابطہ کیا اور بتایا کہ سینسر بورڈ کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے، کیونکہ حکام نے فلم کی نمائش روکنے کی وجوہات واضح نہیں کی تھیں۔
اس کے بعد سیماب گل اور فلم کے ایسوسی ایٹ پروڈیوسر محمد یوسف رحمان نے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔
اگست 2026 میں عدالت نے سینسر بورڈ کو اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنے اور فلم پر کسی بھی پابندی کی وجوہات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
عدالتی حکم کے بعد سینسر بورڈ نے آٹھ اعتراضات کی فہرست جاری کی، جن میں ’’منحوس سیاستدان‘‘، ’’حرام خور‘‘ اور ’’وڈیرہ‘‘ جیسے الفاظ کے علاوہ کتابوں اور اسکول کو آگ لگنے کے مناظر بھی شامل تھے۔
سیماب گل نے سوال اٹھایا کہ معاشرتی اور سیاسی حقائق کی عکاسی کرنے والی زبان اور فلم کی کہانی کے لیے اہم مناظر کو عوامی نمائش سے روکنے کی بنیاد کیوں بنایا جا رہا ہے۔
معاملہ دوبارہ سندھ ہائیکورٹ پہنچا، جہاں فلم سازوں نے سینسر بورڈ کی جانب سے تجویز کردہ مناظر اور مکالموں کی حذف و ترمیم کو چیلنج کیا۔
19 اکتوبر کو جسٹس یوسف علی سعید اور جسٹس عدنان اقبال چوہدری پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سینسر بورڈ کے بیشتر اعتراضات مسترد کر دیے۔ عدالت نے قرار دیا کہ متعلقہ حکام پابندیوں کے لیے مناسب قانونی وجوہات فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
فلم سازوں نے ایک بچے سے متعلق قابل اعتراض جملہ حذف کرنے پر اتفاق کیا۔
عدالت نے سینسر بورڈ کو ہدایت کی کہ مذکورہ جملہ حذف کیے جانے کے بعد 10 روز کے اندر فلم کی سرٹیفکیشن پر دوبارہ غور کیا جائے۔
اس کے تحت بورڈ کو مزید کٹوتیوں کے بغیر فلم کی نمائش کی اجازت دینے یا عمر کے لحاظ سے مختلف درجہ بندی ضروری سمجھنے کی صورت میں وجوہات پر مبنی فیصلہ جاری کرنے کی ہدایت کی گئی۔
لاکھوں بچے اب بھی اسکولوں سے باہر
سیماب گل کے مطابق گھوسٹ اسکول سے متعلق بحث کا مرکز فلم کے نام یا مکالموں پر اعتراضات کے بجائے پاکستان کے تعلیمی نظام کی صورتحال ہونی چاہیے۔
انہوں نے ملک بھر میں تقریباً 10 ہزار گھوسٹ اسکولوں کا تخمینہ پیش کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ایسے ادارے سرکاری ریکارڈ میں کیسے موجود رہ سکتے ہیں جو اب بچوں کو تعلیم فراہم نہیں کر رہے۔
تاہم انٹرویو کے دوران سیماب گل کی جانب سے پیش کردہ اس تعداد کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
انہوں نے 2025 کے سیلاب کے تعلیمی ڈھانچے پر اثرات کے حوالے سے بھی تشویش ظاہر کی اور سوال اٹھایا کہ کیا تعمیرنو اور ترقیاتی منصوبوں پر ہونے والے اخراجات سے تباہ یا غیر فعال ہونے والے اسکولوں کی بحالی کے لیے مناسب اقدامات کیے گئے ہیں۔
سیماب گل نے پاکستان میں تقریباً دو کروڑ 60 لاکھ بچوں کے اسکولوں سے باہر ہونے کا حوالہ دیا۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) کے شائع کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں پانچ سے 16 سال کی عمر کے تقریباً دو کروڑ 51 لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہیں، جن میں ایک کروڑ 34 لاکھ لڑکیاں اور ایک کروڑ 19 لاکھ لڑکے شامل ہیں۔
انہوں نے خواتین میں ناخواندگی پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں خواتین اور لڑکیوں کو تعلیم کے حصول میں اب بھی مختلف رکاوٹوں کا سامنا ہے۔
فلم سے آگے بڑھتا ہوا ایک سوال
گھوسٹ اسکول میں اٹھائے گئے سیاسی اور سماجی سوالات اور فلم کی نمائش سے متعلق تنازع کے باوجود سیماب گل نے واضح کیا کہ ان کا مقصد سیاست میں حصہ لینا نہیں بلکہ فلم سازی کے ذریعے لاکھوں بچوں کو متاثر کرنے والے ایک مسئلے کی جانب توجہ دلانا ہے۔
وہ چاہتی ہیں کہ فلم سے شروع ہونے والی بحث صرف سنیما کے ناظرین تک محدود نہ رہے بلکہ پالیسی سازوں، تعلیمی حکام اور پارلیمنٹ تک پہنچے، جہاں ملک کے تعلیمی اداروں سے متعلق فیصلے کیے جاتے ہیں۔
سیماب گل کے نزدیک یہ مسئلہ کسی ایک اسکول کی بندش سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ ان کے مطابق اصل سوال بچوں کے تعلیم سے محروم رہ جانے اور ان اداروں کے غیر فعال ہونے پر جوابدہی کے فقدان کا ہے جنہیں تعلیم فراہم کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔
گھوسٹ اسکول کی کہانی کے مرکز میں موجود سوال آج بھی رابعہ جیسے بے شمار بچوں کے لیے جواب طلب ہے: ان کا اسکول بند کیوں ہے، اور اسے دوبارہ کھولنے کی ذمہ داری کون اٹھائے گا؟





