کراچی: پاکستانی فلم ساز کامران فائق کی مختصر فلم ’دی لاسٹ گلانس‘ نے امریکا کے شہر سیئٹل میں 13 سے 18 اکتوبر تک منعقد ہونے والے 21ویں تصویر فلم فیسٹیول میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد 2028 کے آسکر ایوارڈز کے لیے زیرِ غور آنے کی اہلیت حاصل کر لی ہے۔
فلم کو فیسٹیول میں بہترین مختصر فلم کا جیوری ایوارڈ دیا گیا۔ تصویر فلم فیسٹیول کو آسکر کے لیے کوالیفائنگ فیسٹیول کی حیثیت حاصل ہے۔ اس ایوارڈ کے بعد فلم آسکر کے انتخابی عمل میں شامل ہونے کی اہل ہو گئی ہے، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ فلم کو آسکر کے لیے نامزد کر لیا گیا ہے۔
ڈان امیجز سے گفتگو کرتے ہوئے کامران فائق نے تصدیق کی کہ ان کی فلم فیسٹیول کی واحد فلم تھی جس نے اس ایوارڈ کے ذریعے آسکر کے لیے کوالیفائی کیا۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا بھر میں ہر سال ہزاروں مختصر فلمیں بنائی جاتی ہیں، لیکن ان میں سے محدود تعداد ہی آسکر کے لیے زیرِ غور آنے کی اہلیت حاصل کر پاتی ہے۔
کامران فائق نے یہ بھی بتایا کہ وہ آسکر کے لیے نامزدگی حاصل کر چکے ایک اداکار کو فلم کی ایوارڈ مہم میں معاونت کے لیے ایگزیکٹو پروڈیوسر کے طور پر شامل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
’دی لاسٹ گلانس‘ کی کہانی کیا ہے؟
کامران فائق کی تحریر کردہ، ہدایت کاری اور پروڈکشن میں بننے والی فلم ’دی لاسٹ گلانس‘ ایک ایسے خاندان کی کہانی بیان کرتی ہے جو تشدد سے بچنے کے لیے رات کی تاریکی میں اپنا گاؤں چھوڑنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
فلم میں عدنان شاہ ٹیپو، اریج ایوب اور فہد ہاشمی نے اداکاری کی ہے۔
عمر پیرزادہ فلم کے پروڈیوسر جبکہ خالد سعید خان ایگزیکٹو پروڈیوسر ہیں۔ مائیک میکنامارا اور ارمینا رانا خان بطور شریک پروڈیوسر اس منصوبے کا حصہ ہیں۔
فلم میں نقل مکانی، عدم تحفظ اور تشدد سے متاثرہ خاندانوں کے حالات کو موضوع بنایا گیا ہے۔ اس کہانی کے ذریعے پاکستانی معاشرے سے جڑے مسائل کو بین الاقوامی فلمی شائقین کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔
تصویر فلم فیسٹیول کے علاوہ بین الاقوامی پذیرائی
سیئٹل میں کامیابی سے قبل بھی ’دی لاسٹ گلانس‘ بین الاقوامی سطح پر ایک اعزاز حاصل کر چکی ہے۔ فلم نے حال ہی میں کینیڈا میں منعقدہ موزیک انٹرنیشنل ساؤتھ ایشین فلم فیسٹیول میں بہترین بین الاقوامی مختصر فلم کا ایوارڈ جیتا تھا۔
22 اکتوبر کو کامران فائق نے اعلان کیا کہ ’دی لاسٹ گلانس‘ کو لاس اینجلس میں ہونے والے ایشین ورلڈ فلم فیسٹیول کے مختصر فلموں کے پروگرام میں آٹھ فائنلسٹ فلموں میں بھی شامل کر لیا گیا ہے۔
فلم ساز کے مطابق، ان آٹھ فلموں کا انتخاب 50 سے زائد ایشیائی ممالک سے موصول ہونے والی فلموں میں سے کیا گیا۔
اس انتخاب سے فلم کو ایک اور بین الاقوامی پلیٹ فارم میسر آیا ہے، جبکہ اس کی ٹیم آسکر ایوارڈز کے انتخابی مراحل کی تیاری کر رہی ہے۔
آسکر کے لیے کوالیفائی کرنے کا کیا مطلب ہے؟
تصویر فلم فیسٹیول جنوبی ایشیائی فلموں کا ایک ایسا بین الاقوامی میلہ ہے جسے آسکر ایوارڈز کے لیے کوالیفائنگ فیسٹیول کی حیثیت حاصل ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ فیسٹیول میں مخصوص ایوارڈز جیتنے والی فلمیں اکیڈمی آف موشن پکچر آرٹس اینڈ سائنسز کے انتخابی عمل میں شامل ہونے کی اہل ہو سکتی ہیں۔
تاہم، آسکر کے لیے کوالیفائی کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ فلم لازمی طور پر شارٹ لسٹ یا حتمی نامزدگی میں جگہ بنا لے گی۔
’دی لاسٹ گلانس‘ کو آسکر ایوارڈ کے لیے مقابلے میں شامل ہونے سے پہلے اکیڈمی کے مزید انتخابی مراحل سے گزرنا ہوگا۔
پاکستان کی آزاد فلمی صنعت کے لیے یہ کامیابی بین الاقوامی سطح پر اپنی شناخت بنانے کا ایک موقع ہے، خاص طور پر ان مختصر فلموں کے لیے جو مقامی شائقین سے آگے عالمی سطح پر پذیرائی حاصل کرنا چاہتی ہیں۔
اب فلم کی مزید پیش رفت کا انحصار آسکر ایوارڈز کے آئندہ انتخابی مراحل پر ہوگا۔





