پاکستانی ڈرامہ 'درِ نجات' ان دنوں سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ زیرِ بحث ڈراموں میں شامل ہے۔ ڈرامے میں ابوبکر کا کردار ادا کرنے والے شہریار منور اور زریاب کا کردار نبھانے والی درفشاں سلیم کی آن اسکرین جوڑی کو ناظرین کی جانب سے خاصی پذیرائی مل رہی ہے۔
جذبات سے بھرپور گفتگو سے لے کر دونوں کرداروں کے درمیان خاموش محبت کے اظہار تک، ڈرامے کے مختلف مناظر شائقین کو اپنی جانب متوجہ کر رہے ہیں، جبکہ انسٹاگرام سمیت دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ان کے کلپس بھی شیئر کیے جا رہے ہیں۔
ابوبکر اور زریاب کا تازہ منظر ناظرین کے دل جیت گیا
ڈرامے کی 31 اکتوبر کو نشر ہونے والی قسط 27 میں ایک ایسا جذباتی منظر دیکھنے کو ملا جس نے ناظرین کی توجہ حاصل کی۔
زریاب کی ملاقات ایک میڈیکل کلینک میں اپنے سابق ساتھی زمیل کی حاملہ اہلیہ حمنہ سے ہوتی ہے، جس کے بعد وہ شدید جذباتی کیفیت سے دوچار ہو جاتی ہے۔
اس موقع پر ابوبکر اس کا سہارا بنتا ہے اور دونوں کے درمیان ایک جذباتی گلے ملنے کا منظر سامنے آتا ہے۔ اس منظر کو سوشل میڈیا پر مختلف فین پیجز کی جانب سے بھی شیئر کیا جا رہا ہے۔
اس منظر کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں محبت کا اظہار کسی بڑے اعتراف یا ڈرامائی مکالمے کے بجائے ایک دوسرے کے لیے جذباتی تحفظ اور اعتماد کے ذریعے کیا گیا ہے۔ زریاب کے لیے ابوبکر کا سہارا بنتا رویہ ان کے رشتے میں آنے والی تبدیلی کو نمایاں کرتا ہے۔
ابوبکر کا کون سا مکالمہ مداحوں کو پسند آیا؟
ڈرامے کا ایک اور قابلِ ذکر منظر اس وقت سامنے آیا جب ابوبکر نے زریاب سے معذرت کی۔
زریاب اپنے نئے فون کی لاک اسکرین پر آیت لگانے کے ابوبکر کے عمل کو غلط سمجھ لیتی ہے، جس کے بعد ابوبکر اس کے جذبات کو سمجھتے ہوئے معافی مانگتا ہے۔
اس موقع پر اس کے الفاظ، "میں نے تمہیں تکلیف پہنچائی، مجھے معاف کر دو"، ناظرین کی توجہ حاصل کرتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ شہریار منور نے بھی اپنے انسٹاگرام اسٹوریز پر اس منظر کی ایک مداح کی جانب سے تیار کردہ ویڈیو شیئر کی اور اسے اپنے پسندیدہ مناظر میں شامل قرار دیا۔ انہوں نے ابوبکر کے معاملے کو غیر ضروری بحث میں تبدیل کرنے کے بجائے سمجھ داری سے سنبھالنے کے انداز کو بھی سراہا۔
سوشل میڈیا پر 'ابزر' کی مقبولیت میں اضافہ
ابوبکر اور زریاب کی آن اسکرین جوڑی کی مقبولیت کے ساتھ مداحوں نے دونوں کرداروں کے ناموں کو ملا کر 'ابزر' (AbZar) کا نام بھی استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔
مداحوں کی سوشل میڈیا پوسٹ یہاں دیکھیں
24 اکتوبر کو اے آر وائی ڈیجیٹل نے اعلان کیا تھا کہ ڈرامہ 'درِ نجات' اپنی 23 اقساط کے دوران مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مجموعی طور پر ایک ارب 70 کروڑ ویوز حاصل کر چکا ہے۔
دوسری جانب شہریار منور نے بی بی سی ایشین نیٹ ورک کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اپنے کردار ابوبکر کے مختلف پہلوؤں پر بھی گفتگو کی۔ ان کے مطابق ابوبکر ایک مکمل اور بے عیب کردار نہیں بلکہ اس میں دوسروں کو خوش رکھنے کی کوشش اور دوسروں کے مسائل حل کرنے کی غیر معمولی خواہش جیسے رویے بھی موجود ہیں۔
یہ پہلو ابوبکر کے کردار کو مزید دلچسپ بناتا ہے اور ناظرین کو اس کے رویے کو ایک مختلف زاویے سے سمجھنے کا موقع دیتا ہے۔
آخر 'درِ نجات' ناظرین کے لیے اتنا خاص کیوں ہے؟
عمیرہ احمد کی تحریر اور ثاقب خان کی ہدایت کاری میں بننے والا یہ ڈرامہ رشتوں، محبت، دل ٹوٹنے، ایمان، معافی اور ذاتی زندگی میں تبدیلی جیسے موضوعات کو اجاگر کرتا ہے۔
ڈرامے کی مقبولیت صرف ابوبکر اور زریاب کی جوڑی تک محدود نہیں بلکہ دونوں کرداروں کی جذباتی نشوونما اور رشتوں کو سمجھنے کے مختلف انداز بھی ناظرین کے لیے دلچسپی کا باعث ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ کہانی آگے بڑھنے کے ساتھ ابوبکر اور زریاب اپنے تعلق کو کس طرح آگے لے کر چلتے ہیں اور کیا دونوں ایک دوسرے کی شخصیت اور انفرادی زندگی کو سمجھتے ہوئے ایک مضبوط رشتہ قائم کر پاتے ہیں۔





