نئی دہلی: عالمی منڈی میں پیر، 12 اکتوبر کو خام تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ روس سے ایندھن کی اضافی فراہمی کی توقعات نے عالمی سطح پر قلت کے فوری خدشات کم کیے، تاہم مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور تیل بردار جہازوں پر تازہ حملوں کے باعث توانائی کی منڈی میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
عالمی معیار کے برینٹ خام تیل کی قیمت 11 سینٹ، یعنی 0.11 فیصد کمی کے بعد 104.61 ڈالر فی بیرل پر آگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 49 سینٹ، یعنی 0.53 فیصد سستا ہو کر 91.36 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔
یہ قیمتیں گرینچ معیاری وقت کے مطابق صبح 6 بج کر 27 منٹ پر ریکارڈ کی گئیں۔ اس سے قبل کاروباری سیشن کے دوران دونوں اقسام کے خام تیل کی قیمتوں میں ایک فیصد سے زیادہ کمی دیکھی گئی تھی۔
تیل کی قیمتوں میں کمی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آئی کہ روس اور یوکرین ایک دوسرے کی توانائی کی تنصیبات پر حملے روکنے پر متفق ہو گئے ہیں۔
تاہم یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ وہ مجوزہ جنگ بندی کی تفصیلات کے منتظر ہیں، جبکہ روس کی جانب سے اس معاہدے کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
امریکی صدر نے روس کے ساتھ ڈیزل کی فراہمی کے ایک معاہدے کا بھی اعلان کیا، جس کے تحت ماسکو فوری طور پر تین لاکھ میٹرک ٹن سے زائد ڈیزل امریکا اور عالمی منڈیوں کو فراہم کرے گا۔
ٹرمپ کے مطابق روس نومبر میں مزید پانچ لاکھ میٹرک ٹن ڈیزل فراہم کرے گا، جبکہ اس کے بعد مزید دس لاکھ میٹرک ٹن ڈیزل کی فراہمی بھی متوقع ہے۔
ایندھن کی اضافی دستیابی کی توقعات کے باعث عالمی منڈی میں سپلائی سے متعلق فوری خدشات میں کمی آئی، جبکہ یورپی گیس آئل فیوچرز کی قیمتوں میں تقریباً تین فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
تاہم مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں زیادہ بڑی کمی نہ آ سکی۔
یمن کی حوثی تحریک نے ہفتے کے روز سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے کی ذمہ داری قبول کی، جبکہ سعودی حکام نے اتوار کو بھی ہوائی اڈے پر ایک اور حملے کی اطلاع دی۔
دوسری جانب برطانوی ادارے یونائیٹڈ کنگڈم میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کے مطابق ہفتے کے اختتام پر دو تجارتی تیل بردار جہازوں پر حملوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
ایک جہاز کو عمان کی بندرگاہ صحار کے قریب نشانہ بنایا گیا، جبکہ دوسرے جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے نقصان پہنچا۔
آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کا ایک اہم بحری راستہ ہے، جہاں مزید حملوں سے مشرقِ وسطیٰ سے خام تیل کی برآمدات متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
ادھر عالمی سرمایہ کاری بینک گولڈمین سیکس نے دسمبر کے لیے برینٹ خام تیل کی متوقع قیمت 85 ڈالر سے بڑھا کر 90 ڈالر فی بیرل کر دی ہے۔
ماہرین کے مطابق روس اور یوکرین کے درمیان مجوزہ توانائی جنگ بندی کے مستقبل اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں ممکنہ اضافے کے باعث تیل کی عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ جاری رہ سکتا ہے۔
پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں مسلسل بلند رہنے سے درآمدی اخراجات بڑھ سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں مقامی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور مہنگائی پر مزید دباؤ پڑنے کا خدشہ ہے۔





