دل صرف دماغ سے آنے والے احکامات پر کام نہیں کرتا۔ اس پر موجود اعصابی خلیوں کا ایک جال بھی اس کی سرگرمی کو منظم کرنے میں حصہ لیتا ہے، تاکہ جسم کی بدلتی ضروریات کے مطابق خون کی فراہمی جاری رہے۔
سائنس دان اسے دل کا اندرونی اعصابی نظام کہتے ہیں، جسے بعض اوقات ’ننھا دماغ‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی موجودگی کئی دہائیوں سے معلوم ہے، تاہم اب محققین سمجھ رہے ہیں کہ اس کے مختلف خلیے دل کو فعال رکھنے کی ذمہ داریاں کیسے تقسیم کرتے ہیں۔
جولائی 2026 میں سائنسی جریدے سیل میں آن لائن شائع تحقیق میں چوہوں کے دل کے اعصابی خلیوں کے دو بڑے گروہوں کی شناخت کی گئی۔ ایک معمول کی کارکردگی برقرار رکھنے، جبکہ دوسرا دباؤ کے دوران استحکام میں اہم ثابت ہوا۔
پہلا گروہ، جس کی شناخت Npy نامی سالماتی نشان سے ہوتی ہے، دل کی رفتار اور خود دل کے پٹھوں کو خون پہنچانے والی شریانوں میں بہاؤ کو منظم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ تجرباتی جانوروں میں ان خلیوں کو ختم کرنے سے دل کی مہلک ناکامی پیدا ہوئی۔
Ddah1 نامی نشان رکھنے والا دوسرا گروہ اس وقت اہم ثابت ہوا جب جسم کے خطرے سے نمٹنے والے اعصابی نظام کی سرگرمی غیر معمولی طور پر بڑھائی گئی۔ ان خلیوں نے دل کو دھڑکن کی خطرناک بے ترتیبی سے بچانے میں کردار ادا کیا۔
ان خلیوں کا مطالعہ آسان نہیں، کیونکہ یہ دل میں بکھرے ہوتے ہیں اور بافتوں کا نہایت معمولی حصہ ہیں۔ ییل یونیورسٹی کی ٹیم نے فلوروسینٹ نشان دہی سے انہیں تلاش کیا اور ہر خلیے میں جینز کی سرگرمی کا جائزہ لے کر ان کی اقسام پہچانیں۔
’ننھے دماغ‘ سے مراد مقامی اعصابی نظام ہے؛ اس اصطلاح سے دل میں سوچ یا شعور ثابت نہیں ہوتا۔ یہ دل کے قدرتی پیس میکر سے بھی الگ ہے۔ معمول کی دھڑکن شروع کرنے والے برقی اشارے سائنو ایٹریل نوڈ کے مخصوص خلیوں سے پیدا ہوتے ہیں، جبکہ اعصابی اور ہارمونی پیغامات رفتار اور قوت میں تبدیلی لاتے ہیں۔
محققین کے لیے اگلا امکان ایسے علاج ہیں جو ضرورت کے مطابق مخصوص اعصابی حلقوں پر اثر ڈال سکیں۔ تاہم چوہوں میں سامنے آنے والے نتائج کو انسانی علاج میں تبدیل کرنے کے لیے مزید تحقیق ضروری ہے۔





