اسلام آباد: خیبر پختونخوا میں دریائے سوات کے طاس کا درجہ حرارت رواں صدی کے اختتام تک پانچ ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں سیلاب، زمینی کٹاؤ اور مستقبل میں پانی کی قلت کے خطرات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
یہ انکشاف گرین کلائمیٹ فنڈ کے گلیشیئرز ٹو فارمز پروگرام کے تحت ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے کیے گئے موسمیاتی خطرات کے جائزے میں سامنے آیا ہے، جس کی تفصیلات بدھ کو جاری کی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق سوات کے دریائی طاس میں اکتوبر سے جون کے دوران درجہ حرارت میں زیادہ اضافہ متوقع ہے، جبکہ بعض موسمیاتی منظرناموں کے تحت موسم گرما کی بارشیں دوگنا سے بھی زیادہ ہو سکتی ہیں۔
اس کے برعکس موسم سرما کی بارشوں میں نمایاں تبدیلی متوقع نہیں۔
ماہرین کے مطابق ابتدا میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث گلیشیئرز تیزی سے پگھلیں گے، جس سے دریاؤں میں پانی کی مقدار بڑھ سکتی ہے۔
تاہم وقت گزرنے کے ساتھ گلیشیئرز کا حجم کم ہونے سے پانی کی فراہمی متاثر ہوگی اور مستقبل میں قلت کا خطرہ بڑھ جائے گا۔
سوات کے گلیشیئرز کو کیا خطرات لاحق ہیں؟
جائزے کے مطابق دریائے سوات کے طاس میں دس ہزار سے زیادہ گلیشیئرز موجود ہیں، جن کا تعلق خطے کے آبی نظام اور موسمی حالات سے ہے۔
درجہ حرارت بڑھنے کے باعث گلیشیئرز اور پہاڑوں میں جمی برف پگھلنے سے زمینی ڈھلوانیں اور قدرتی رکاوٹیں غیر مستحکم ہو سکتی ہیں۔
اس کے نتیجے میں لینڈ سلائیڈنگ، اچانک آنے والے سیلاب اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے پیدا ہونے والے سیلاب، جنہیں گلاف کہا جاتا ہے، کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
یہ واقعات سڑکوں، پلوں، آبادیوں اور آبپاشی کے نظام کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ بارشوں کے انداز میں تبدیلی سے زمین کے کٹاؤ، زرعی نقصانات اور پانی کے معیار پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
خصوصاً دریائی وادیوں اور ان سے منسلک علاقوں میں آباد کمیونٹیز کے لیے خطرات بڑھنے کا امکان ہے۔
زیادہ بارشوں کے باوجود پانی کی قلت کیوں ہو سکتی ہے؟
رپورٹ کے مطابق موسم گرما میں بارشوں میں اضافہ لازمی طور پر پانی کی مستقل دستیابی میں اضافے کا سبب نہیں بنے گا۔
اگر زیادہ بارش مختصر وقت میں ہو تو پانی تیزی سے بہہ کر سیلابی صورت اختیار کر سکتا ہے، جبکہ خشک موسم کے لیے اسے ذخیرہ کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
اس وقت گلیشیئرز گرم موسم میں پانی فراہم کرکے دریاؤں کے بہاؤ کو برقرار رکھنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔
تاہم گلیشیئرز کا حجم کم ہونے کے ساتھ ان سے حاصل ہونے والے پانی میں بھی بتدریج کمی متوقع ہے۔
دوسری جانب بڑھتا ہوا درجہ حرارت زرعی استعمال اور دیگر ضروریات کے لیے پانی کی طلب میں اضافہ کرے گا۔
اس صورت حال سے آبپاشی، فصلوں کی پیداوار اور مقامی آبادیوں کی پانی تک رسائی متاثر ہو سکتی ہے۔
چار دریائی طاسوں کا موسمیاتی جائزہ
سوات کے علاوہ اس تحقیق میں وسطی اور مغربی ایشیا کے تین مزید گلیشیئرز سے منسلک دریائی طاسوں کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔
ان میں آرمینیا، آذربائیجان اور جارجیا میں پھیلا دریائے کورا کا طاس، کرغزستان کا دریائے نارین اور وسطی ایشیا و افغانستان سے منسلک دریائے پنج کا طاس شامل ہیں۔
محققین نے گزشتہ 40 برس کے درجہ حرارت، بارش اور برف باری کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا۔
ان معلومات کی مدد سے 2035، 2055، 2085 اور 2100 کے لیے موسمیاتی تبدیلیوں کے ممکنہ منظرنامے تیار کیے گئے۔
تحقیق کے مطابق چاروں علاقوں میں صدی کے اختتام تک درجہ حرارت تقریباً تین سے پانچ ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ سکتا ہے، جس سے گلیشیئرز، آبی وسائل اور زرعی سرگرمیاں متاثر ہونے کا امکان ہے۔
یہ تحقیق گلیشیئرز ٹو فارمز پروگرام کا حصہ ہے، جس میں نو ترقی پذیر ممالک شامل ہیں۔
پاکستان کے لیے کیا اقدامات ضروری ہیں؟
تحقیق کے نتائج شمالی پاکستان میں پانی کے انتظام، سیلاب سے تحفظ اور ترقیاتی منصوبہ بندی میں موسمیاتی خطرات کو شامل کرنے کی ضرورت اجاگر کرتے ہیں۔
رپورٹ میں دریائی طاسوں کے بہتر انتظام، سیلاب کی نگرانی، پیشگی خبردار کرنے والے نظام اور موسمیاتی تبدیلیوں کو مدنظر رکھ کر بنیادی ڈھانچے کی تعمیر جیسے اقدامات کو اہم قرار دیا گیا ہے۔
پانی ذخیرہ کرنے اور آبپاشی کے مؤثر طریقے بھی مستقبل میں آبی قلت کے خطرات کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے چلنے والے گلیشیئرز ٹو فارمز پروگرام کے لیے مجموعی طور پر ساڑھے تین ارب ڈالر کا مالیاتی خاکہ تیار کیا گیا ہے، جس میں 25 کروڑ ڈالر گرین کلائمیٹ فنڈ فراہم کرے گا۔
تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ اس رقم میں سے سوات کے لیے کتنے وسائل مختص ہوں گے یا پاکستان میں مجوزہ اقدامات کب شروع کیے جائیں گے۔
رپورٹ میں پیش کیے گئے نتائج کسی مخصوص سال میں سیلاب یا خشک سالی کی پیش گوئی نہیں بلکہ مختلف موسمیاتی حالات کے تحت مستقبل کے خطرات کا اندازہ ہیں۔
پاکستان کے لیے اس جائزے کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ گلیشیئرز کے پگھلنے سے پیدا ہونے والے فوری سیلابی خطرات اور مستقبل میں پانی کی قلت، دونوں سے نمٹنے کے لیے منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔





