پیرس: یورپی یونین کے موسمیاتی ادارے کوپرنیکس نے خبردار کیا ہے کہ 2026 دنیا کی تاریخ کا دوسرا گرم ترین سال بن سکتا ہے، جبکہ عالمی اوسط درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ رہنے کا امکان تقریباً یقینی ہو چکا ہے۔
جمعہ کو جاری کردہ تازہ موسمیاتی رپورٹ کے مطابق اس بات کا تقریباً 80 فیصد امکان ہے کہ 2026 ریکارڈ کا دوسرا گرم ترین سال ہوگا، جبکہ 20 فیصد امکان یہ بھی موجود ہے کہ رواں سال 2024 کے ریکارڈ کی برابری کر لے یا اس سے بھی زیادہ گرم ثابت ہو۔
کوپرنیکس کے مطابق 2026 میں عالمی اوسط درجہ حرارت 1850 سے 1900 کے صنعتی دور سے پہلے کے مقابلے میں 1.56 سے 1.61 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
اگر یہ اندازے درست ثابت ہوئے تو 2024 کے بعد 2026 دوسرا ایسا سال ہوگا جس میں عالمی اوسط درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کی سطح سے ڈیڑھ ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ رہا۔
اکتوبر تاریخ کا گرم ترین اکتوبر قرار
کوپرنیکس کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اکتوبر 2026 عالمی سطح پر اب تک کا گرم ترین اکتوبر ریکارڈ کیا گیا۔
اس مہینے میں دنیا کا اوسط سطحی درجہ حرارت 15.35 ڈگری سینٹی گریڈ رہا، جو صنعتی دور سے پہلے کی سطح سے 1.75 ڈگری اور 1991 سے 2020 کے اوسط سے 0.90 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ تھا۔
یہ مسلسل تیسرا مہینہ تھا جب عالمی درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں ڈیڑھ ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔
سمندروں کی سطح کا درجہ حرارت بھی غیر معمولی حد تک بلند رہا۔ قطبی علاقوں سے باہر سمندری پانی کا اوسط درجہ حرارت 20.95 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جو اکتوبر کے مہینے کا نیا ریکارڈ ہے۔
ماہرین کے مطابق غیر معمولی گرمی کی بنیادی وجہ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی ہے، جس کی شدت میں ال نینو کے طاقتور موسمیاتی رجحان نے مزید اضافہ کیا ہے۔
ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جس کے دوران بحرالکاہل کے استوائی حصوں کا پانی معمول سے زیادہ گرم ہو جاتا ہے۔ اس کے اثرات عالمی درجہ حرارت، بارشوں اور مختلف خطوں کے موسمی نظام پر مرتب ہوتے ہیں۔
رواں سال ال نینو کی غیر معمولی شدت نے پہلے ہی گرم ہوتی ہوئی زمین کے درجہ حرارت کو مزید بڑھا دیا ہے۔
مسلسل چار سال عالمی حدت میں اضافے کا خدشہ
کوپرنیکس نے خبردار کیا ہے کہ 2023 سے 2026 کے دوران چار سالہ اوسط عالمی درجہ حرارت بھی صنعتی دور سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر سکتا ہے۔
2015 کے پیرس موسمیاتی معاہدے کے تحت عالمی برادری نے زمین کے طویل مدتی درجہ حرارت میں اضافے کو 2 ڈگری سینٹی گریڈ سے نمایاں طور پر نیچے رکھنے اور اسے 1.5 ڈگری تک محدود کرنے کی کوششوں پر اتفاق کیا تھا۔
تاہم کسی ایک سال میں عالمی درجہ حرارت کا اس حد سے تجاوز کرنا پیرس معاہدے کے طویل مدتی ہدف کی باضابطہ ناکامی نہیں سمجھا جاتا۔
اس کے باوجود مسلسل کئی سال تک درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے کا رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی حدت کو محدود کرنے کا ہدف حاصل کرنا مزید مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اقوام متحدہ کی موسمیاتی کانفرنس کوپ 31 کا آغاز 9 نومبر کو ترکیہ میں ہونے جا رہا ہے۔
کانفرنس میں دنیا بھر کے ممالک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی، موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت پیدا کرنے اور متاثرہ ممالک کے لیے مالی معاونت جیسے معاملات پر مذاکرات کریں گے۔
تازہ اعداد و شمار ان ممالک کے لیے خاص اہمیت رکھتے ہیں جو پہلے ہی شدید گرمی، سیلاب، خشک سالی اور دیگر موسمیاتی خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔
کوپرنیکس کے مطابق 2026 کے باقی دو ماہ میں بھی عالمی درجہ حرارت غیر معمولی طور پر بلند رہنے کا امکان ہے، جس سے موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے مؤثر عالمی اقدامات کی اہمیت مزید واضح ہوتی ہے۔





