اسلام آباد: پاکستان میں رواں سال پولیو کا نواں کیس سامنے آ گیا ہے۔ خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر میں سات ماہ کے بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی اور صوبائی حکام کو ایک ہفتے کے اندر بیماری کے خاتمے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (این ای او سی) کے مطابق متاثرہ بچہ تحصیل باڑہ کی یونین کونسل مستک کا رہائشی ہے۔ یہ رواں سال ضلع خیبر میں پولیو کا تیسرا اور خیبر پختونخوا میں ساتواں کیس ہے۔
حکام کے مطابق ضلع خیبر میں سامنے آنے والے تینوں کیسز میں وائرس کا جینیاتی تعلق افغانستان میں گردش کرنے والے پولیو وائرس سے ملا ہے، جہاں اس سال اب تک 50 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔
ادارے کا کہنا ہے کہ ان نتائج سے دونوں ممالک کے درمیان وائرس کی گردش کی نشاندہی ہوتی ہے، جس کی روک تھام کے لیے سرحدی علاقوں میں ویکسینیشن اور نگرانی کا عمل جاری رکھنا ضروری ہے۔
خیبر پختونخوا میں پولیو کے سب سے زیادہ کیسز
پاکستان میں 2026 کے دوران سامنے آنے والے نو پولیو کیسز میں سے سات خیبر پختونخوا اور دو سندھ سے رپورٹ ہوئے ہیں۔
خیبر پختونخوا میں ضلع خیبر اور بنوں سے تین، تین جبکہ شمالی وزیرستان سے ایک کیس سامنے آیا ہے۔
این ای او سی کے مطابق پشاور بلاک، جس میں پشاور اور خیبر کے اضلاع شامل ہیں، اور جنوبی خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں میں پولیو وائرس کی موجودگی اب بھی تشویش کا باعث ہے۔
اس سے قبل یکم نومبر کو ضلع خیبر سے 13 ماہ کی بچی میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔
پاکستان میں پولیو کے سالانہ کیسز کی تعداد میں کمی آئی ہے۔ گزشتہ سال 31 کیسز رپورٹ ہوئے تھے، جبکہ رواں سال اب تک نو کیسز سامنے آئے ہیں۔
تاہم سرحدی علاقوں میں وائرس کا پھیلاؤ بیماری کے مکمل خاتمے کی کوششوں میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔
پاکستان اور افغانستان دنیا کے وہ دو ممالک ہیں جہاں پولیو وائرس اب بھی مستقل طور پر موجود ہے۔
دو کروڑ 40 لاکھ بچوں کو ویکسین دینے کی مہم
پولیو کا نواں کیس ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ملک کے 97 اضلاع میں دو سے آٹھ نومبر تک حفاظتی قطرے پلانے کی مہم جاری ہے۔
اس مہم کے دوران دو لاکھ سے زائد پولیو ورکرز تقریباً دو کروڑ 40 لاکھ بچوں کو ویکسین فراہم کر رہے ہیں۔
پاکستان اور افغانستان میں یہ مہم بیک وقت چلائی جا رہی ہے تاکہ سرحد پار وائرس کی منتقلی کو محدود کیا جا سکے۔
حکام کے مطابق 26 سے 31 اکتوبر کے دوران پشاور بلاک کی 78 یونین کونسلوں میں خصوصی مہم کے تحت تقریباً آٹھ لاکھ 29 ہزار بچوں کو انجیکشن کے ذریعے پولیو ویکسین بھی دی گئی۔
این ای او سی نے بتایا کہ نئے کیس کی تحقیقات جاری ہیں اور وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے مزید اقدامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
پولیو ایک متعدی بیماری ہے جو مستقل معذوری کا سبب بن سکتی ہے۔ اس کا کوئی علاج موجود نہیں، تاہم ویکسین کے ذریعے بچوں کو اس سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔
وزیراعظم کی ایک ہفتے میں حکمت عملی تیار کرنے کی ہدایت
اسلام آباد میں پولیو کے خاتمے سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے نئے کیسز پر تشویش کا اظہار کیا اور وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے کی ہدایت کی۔
وزیراعظم نے وفاقی وزیر صحت، وزیر مملکت برائے صحت، سیکریٹری صحت اور پولیو پروگرام کے حکام کو چاروں صوبوں کا دورہ کرنے اور وزرائے اعلیٰ و چیف سیکریٹریز سے مشاورت کرنے کا حکم دیا۔
انہوں نے ہدایت کی کہ ایک ہفتے کے اندر مشترکہ حکمت عملی تیار کی جائے، جس میں ویکسینیشن کی شرح بہتر بنانے، وائرس کی نگرانی اور متاثرہ علاقوں تک رسائی کو ترجیح دی جائے۔
شہباز شریف نے پولیو ورکرز کے تحفظ کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی کے مسائل کے باوجود بچوں تک ویکسین کی رسائی یقینی بنائی جائے۔
سرحد پار نقل و حرکت اور ویکسینیشن میں مشکلات
اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی نقل و حرکت وائرس کے پھیلاؤ میں کردار ادا کر رہی ہے۔
حکام کے مطابق پنجاب میں فروری 2025 کے بعد پولیو کا کوئی نیا کیس رپورٹ نہیں ہوا، جبکہ بلوچستان میں 2025 اور 2026 کے دوران کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔
آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔
اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ سندھ کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی کی مقدار میں کمی دیکھی گئی ہے۔
اگرچہ ملک میں مجموعی طور پر پولیو کیسز کم ہوئے ہیں، لیکن خیبر پختونخوا کے متاثرہ علاقوں میں وائرس کی مسلسل موجودگی ظاہر کرتی ہے کہ بیماری کے مکمل خاتمے کے لیے مزید اقدامات درکار ہیں۔
آئندہ مرحلے میں حکومت کی توجہ متاثرہ علاقوں میں ویکسینیشن، پولیو ٹیموں کے تحفظ اور افغانستان کے ساتھ سرحدی تعاون کو مؤثر بنانے پر مرکوز ہوگی۔





