لاہور: حکومتی کریک ڈاؤن کے باوجود لاہور میں ایل پی جی 570 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے، جبکہ صارفین کا الزام ہے کہ بعض دکاندار قیمت کم کرنے کے بجائے اب گیس چھپ کر فروخت کر رہے ہیں۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق شہریوں سے اکتوبر کے لیے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، اوگرا، کے مقرر کردہ 279 روپے فی کلو سے کہیں زیادہ قیمت وصول کی جا رہی ہے۔
570 روپے کے نرخ پر صارف ہر کلو کے لیے سرکاری قیمت سے 291 روپے، یعنی تقریباً 104 فیصد زیادہ ادا کرتا ہے۔ اس حساب سے 10 کلو گیس خریدنے والے گھرانے کو 2790 روپے کے بجائے 5700 روپے خرچ کرنا پڑتے ہیں۔
صارفین نے اخبار کو بتایا کہ کارروائیوں کے بعد بعض دکانداروں نے کھلے عام فروخت بند کر دی، لیکن زیادہ قیمت ادا کرنے والے خریداروں کو گیس فراہم کر رہے ہیں۔ ان شکایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کارروائیوں کے باوجود سرکاری نرخ پر دستیابی یقینی نہیں بن سکی۔
شہری محمد علی نے قیمتوں اور فراہمی پر حکومتی نگرانی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ایک اور صارف نے کہا کہ صوبائی دارالحکومت میں بھی پائپ کے ذریعے قدرتی گیس باقاعدگی سے نہ ملنے کے باعث لوگ متبادل ایندھن خریدنے پر مجبور ہیں۔
ایل پی جی، یعنی مائع پٹرولیم گیس، سلنڈروں میں فراہم کی جاتی ہے اور اس کے استعمال کے لیے پائپ لائن کنکشن ضروری نہیں ہوتا۔ اسی لیے گیس کی بندش کا سامنا کرنے والے یا کنکشن سے محروم گھرانوں کے لیے یہ کھانا پکانے کا اہم ذریعہ ہے۔
قیمتوں میں اضافہ ایران سے درآمدات میں تعطل کے بعد سامنے آیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گبد ریمدان اور تفتان کی گزرگاہیں 17 اکتوبر کو بند ہوئی تھیں۔ بعد میں گبد ریمدان کو پاکستانی خراب ہونے والی اشیا کی برآمد کے لیے کھولا گیا، تاہم اس سے ایل پی جی کی درآمد بحال ہونے کی تصدیق نہیں ہوتی۔
اخبار کے مطابق مقامی پیداوار یومیہ 2000 سے 2500 ٹن، جبکہ کھپت 4000 سے 4500 ٹن ہے۔ شدید سردیوں میں طلب 6000 ٹن سے بڑھ سکتی ہے، جس سے درآمدات کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے۔
گھرانوں کے لیے کریک ڈاؤن کا عملی نتیجہ سرکاری قیمت پر گیس کی دستیابی ہوگا۔ رسد بحال کرنا اور زائد وصولی روکنا دونوں ضروری ہیں؛ صرف دکانداروں کے خلاف کارروائی درآمدی کمی پوری نہیں کرتی۔





