یروشلم: اسرائیل میں منگل کو پارلیمانی انتخابات کے لیے ووٹنگ کا آغاز ہو گیا۔ ان انتخابات کے ذریعے غزہ میں تین سال سے جاری جنگ، ایران کے ساتھ فوجی تصادم اور وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی قیادت پر اٹھنے والے سوالات کے پس منظر میں نئی حکومت کی تشکیل کا فیصلہ ہوگا۔
یہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی قیادت میں ہونے والے حملوں کے بعد اسرائیل کے پہلے عام انتخابات ہیں۔ ان حملوں میں تقریباً 1,200 افراد ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد غزہ میں جنگ شروع ہوئی۔ لیکوڈ پارٹی اور قوم پرست و مذہبی جماعتوں کے اتحاد کی قیادت کرنے والے نیتن یاہو ایک مرتبہ پھر اقتدار حاصل کرنے کے لیے انتخاب لڑ رہے ہیں۔ ان کے مقابلے میں اپوزیشن جماعتیں ہیں، جن کی قیادت میں سابق فوجی سربراہ گادی آئزنکوٹ بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق 73 لاکھ سے زائد افراد ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔ ان انتخابات میں اسرائیلی پارلیمان، کنیسٹ، کی 120 نشستوں کا فیصلہ ہوگا، جہاں حکومت بنانے کے لیے کم از کم 61 ارکان کی حمایت ضروری ہے۔
انتخابات سے قبل ہونے والے رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکمران اتحاد اور اپوزیشن، دونوں کو پارلیمان میں اکثریت حاصل کرنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ اس صورت میں نئی حکومت کی تشکیل کے لیے مختلف جماعتوں کے درمیان مذاکرات کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
یہ انتخابات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب اکتوبر 2023 کے حملوں سے نمٹنے میں نیتن یاہو کی حکومت کی کارکردگی اور اس کے بعد غزہ میں شروع کی گئی فوجی کارروائیوں پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
دی گارڈین کی رپورٹ میں دیے گئے اعداد و شمار کے مطابق غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں کم از کم 75 ہزار فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ایک کمیشن اور انسانی حقوق کی متعدد تنظیموں نے غزہ میں اسرائیلی اقدامات کو نسل کشی قرار دیا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔
غزہ سے شروع ہونے والا تنازع لبنان میں فوجی کارروائیوں اور ایران کے ساتھ تصادم تک پھیل چکا ہے، جس کے علاقائی سلامتی اور توانائی کی عالمی منڈیوں پر بھی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
اسرائیل میں اکتوبر 2023 کے حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد اور یرغمال بنائے گئے شہریوں کے اہل خانہ مسلسل مطالبہ کر رہے ہیں کہ حملوں سے قبل سلامتی اور انٹیلی جنس اداروں کی ناکامیوں کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد سرکاری تحقیقاتی کمیشن قائم کیا جائے۔
انتخابات کی صبح متاثرہ خاندانوں کے افراد تل ابیب میں جمع ہوئے اور ووٹروں سے اپیل کی کہ وہ ووٹ ڈالتے وقت ان حملوں سے نمٹنے میں حکومت کے کردار کو مدنظر رکھیں۔
نیتن یاہو نے مجوزہ تحقیقاتی کمیشن کے قیام کے مطالبات کی مخالفت کی ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے حکومتی جواب دہی کو اپنی انتخابی مہم کا ایک اہم موضوع بنایا ہے۔
وزیراعظم کو بدعنوانی کے تین مقدمات میں عدالتی کارروائی کا بھی سامنا ہے۔ نیتن یاہو اپنے خلاف الزامات کی تردید کرتے ہیں، جبکہ ان مقدمات کی سماعت ان کی وزارت عظمیٰ کے دوران بھی جاری رہی ہے۔
اسرائیلی فوج کے سابق چیف آف اسٹاف گادی آئزنکوٹ اپنی جماعت یاشر کے ذریعے اپوزیشن کی ایک اہم شخصیت کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
آئزنکوٹ کے بیٹے دسمبر 2023 میں غزہ میں فوجی کارروائیوں کے دوران ہلاک ہو گئے تھے۔ انہوں نے اپنی انتخابی مہم میں حکومتی جواب دہی، سلامتی کی پالیسی اور فوجی بھرتی کے نظام میں تبدیلیوں کو اہمیت دی ہے۔
وہ اکتوبر 2023 کے حملوں کی تحقیقات کی حمایت کرتے ہیں اور انتہائی قدامت پسند یہودی مردوں کو لازمی فوجی خدمات سے حاصل استثنیٰ ختم کرنے کے حامی ہیں۔ یہ معاملہ اسرائیل کی مخلوط حکومتوں کے درمیان اختلافات کا سبب رہا ہے۔
تاہم فلسطینیوں سے متعلق بعض معاملات میں آئزنکوٹ اور نیتن یاہو کے مؤقف کے درمیان فرق زیادہ واضح نہیں۔
آئزنکوٹ نے دو ریاستی حل کے تحت ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت نہیں کی۔ وہ عمومی طور پر اسرائیلی بستیوں کے قیام کے حامی ہیں، اگرچہ مقبوضہ مغربی کنارے میں بستیوں کی توسیع کے بعض منصوبوں کی مخالفت کرتے ہیں۔
انہوں نے مغربی کنارے کے انتظامی معاملات سے متعلق بعض اختیارات آبادکار تحریک سے وابستہ وزرا کو منتقل کرنے پر بھی تنقید کی ہے۔
ان مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کی تبدیلی ضروری نہیں کہ فلسطینی ریاست کے قیام یا مقبوضہ علاقوں پر اسرائیلی کنٹرول سے متعلق پالیسی میں بھی تبدیلی لائے۔
یہ انتخابات مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع اور آبادکاروں کے تشدد میں اضافے کے پس منظر میں بھی ہو رہے ہیں۔
بستیوں کی تعمیر نیتن یاہو کے سیاسی پروگرام کا حصہ رہی ہے، جبکہ متعدد حکومتوں اور بین الاقوامی تنظیموں نے اسرائیلی آبادکاری کی پالیسیوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
بین الاقوامی عدالت انصاف نے جولائی 2024 میں اپنی مشاورتی رائے میں قرار دیا تھا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی مسلسل موجودگی غیر قانونی ہے۔ اسرائیل نے اس رائے کو مسترد کر دیا تھا۔
اسرائیل کے اندر قوم پرست اور مذہبی جماعتوں کا سیاسی اثر و رسوخ بڑھا ہے، خصوصاً نوجوان یہودی ووٹروں میں۔
دی گارڈین کے حوالے سے سامنے آنے والے چینل 12 کے ایک سروے کے مطابق پہلی مرتبہ ووٹ ڈالنے والے تقریباً تین چوتھائی یہودی ووٹروں نے خود کو دائیں بازو یا معتدل دائیں بازو کے سیاسی رجحان سے وابستہ قرار دیا۔
تاہم اس سروے میں اسرائیل کے فلسطینی شہری شامل نہیں تھے، جس کے باعث اسے مجموعی ووٹر آبادی کی مکمل نمائندگی نہیں سمجھا جا سکتا۔
اسرائیل کے فلسطینی شہریوں کی سیاسی حیثیت، مقبوضہ علاقوں میں آبادکاری کی پالیسی اور غزہ کا مستقبل اہم مسائل ہیں، لیکن انتخابی مہم کا بڑا حصہ سیاسی قیادت، قومی سلامتی اور داخلی حکمرانی کے گرد گھومتا رہا ہے۔
اسرائیل کے متناسب نمائندگی کے انتخابی نظام میں حکومت کی تشکیل کے لیے مختلف جماعتوں کے درمیان اتحاد بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
اگر لیکوڈ یا آئزنکوٹ کی یاشر پارٹی سب سے زیادہ نشستیں حاصل بھی کر لے، تب بھی اس سے خودبخود یہ طے نہیں ہوگا کہ اگلا وزیراعظم کون بنے گا۔
نئی حکومت کی تشکیل کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ سیاسی جماعتوں کے رہنما مذہبی، قوم پرست، اعتدال پسند اور دیگر جماعتوں سمیت پارلیمان میں مطلوبہ حمایت حاصل کر پاتے ہیں یا نہیں۔
یوں ان انتخابات میں دو بنیادی سوالات اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ پہلا یہ کہ کیا نیتن یاہو حکومت جاری رکھنے کے لیے کافی پارلیمانی حمایت برقرار رکھ سکیں گے، اور دوسرا یہ کہ کیا اپوزیشن جماعتیں سلامتی، مذہب اور مسئلہ فلسطین پر اختلافات کے باوجود کسی مشترکہ حکومتی پروگرام پر متفق ہو سکیں گی۔
انتخابی نتائج غزہ سے متعلق اسرائیلی پالیسی، ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے مستقبل پر سفارتی مذاکرات کی سمت پر بھی اثرانداز ہوں گے۔




