ریاض: سعودی عرب کی زیرِ قیادت فوجی اتحاد نے جمعے کو دعویٰ کیا کہ اس نے سعودی عرب کے علاقے مدینہ منورہ کی فضائی حدود میں یمن کی حوثی تحریک کی جانب سے بھیجا گیا ایک ڈرون تباہ کر دیا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق فوجی اتحاد نے یہ اعلان سعودی حمایت یافتہ فورسز اور ایران کی حمایت یافتہ حوثی تحریک کے درمیان سرحد پار کشیدگی میں اضافے کے دوران کیا۔
مدینہ منورہ اسلام کے مقدس ترین مقامات میں سے ایک، مسجدِ نبوی ﷺ کا شہر ہے، جہاں ہر سال لاکھوں مسلمان زیارت کے لیے آتے ہیں۔
تاہم فوجی اتحاد نے ڈرون کے ممکنہ ہدف، اسے تباہ کیے جانے کے درست مقام یا واقعے میں کسی جانی و مالی نقصان سے متعلق تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
حوثیوں کی سعودی عرب پر حملے کی تردید
یمن کی حوثی تحریک نے جمعے کو سعودی عرب پر کسی بھی حملے میں ملوث ہونے کے الزام کو مسترد کر دیا۔
حوثی تحریک کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے سعودی فوجی اتحاد کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تنظیم نے اس روز سعودی حدود کی جانب کوئی کارروائی نہیں کی۔
حوثی تحریک ماضی میں بھی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تردید کرتی رہی ہے اور دونوں مقدس شہروں پر ڈرون حملوں سے متعلق سعودی الزامات مسترد کر چکی ہے۔
سعودی اتحاد کے دعوے اور حوثیوں کی تردید کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
سعودی عرب کے مقدس شہروں کے قریب ڈرون مار گرانے کا دوسرا دعویٰ
مدینہ منورہ میں ڈرون مار گرانے کا اعلان سعودی فوجی اتحاد کے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں جمعے کو مکہ مکرمہ کے علاقے میں بھی ایک ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
سعودی حکام نے اس ڈرون کو بھی حوثیوں سے منسوب کیا تھا، تاہم حوثی تحریک نے اس الزام کو مسترد کر دیا۔
یہ دونوں اعلانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب سعودی عرب کے مغربی علاقوں، خصوصاً لاکھوں زائرین کی آمدورفت والے مقامات کی سلامتی سے متعلق خدشات بڑھ رہے ہیں۔
تاہم کسی بھی اعلان میں یہ ثابت نہیں کیا گیا کہ ڈرونز کا اصل ہدف مقدس مقامات تھے۔
علاقائی کشیدگی کم کرنے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کے باوجود ڈرون مار گرانے کے تازہ دعوے ظاہر کرتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کو مزید پھیلنے سے روکنا ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔
سعودی حکام نے مدینہ منورہ کے علاقے میں ڈرون مار گرانے کے مبینہ واقعے سے متعلق تاحال مزید تفصیلات جاری نہیں کیں۔





