امفال: بھارت کی شمال مشرقی ریاست منی پور کے دارالحکومت امفال میں ہزاروں افراد نے کوآرڈینیٹنگ کمیٹی آن منی پور انٹیگریٹی (COCOMI) کے زیرِ اہتمام ریلی نکالی، جس میں کوکی مسلح گروہوں کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے کے خاتمے اور نسلی تشدد کے باعث بے گھر ہونے والے افراد کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا۔
مقامی میڈیا اور سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق مظاہرے میں میتی، ناگا اور میتی پنگال برادریوں کے افراد نے شرکت کی، جن میں ریاست کے پہاڑی اور وادی کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے نمائندے بھی شامل تھے۔
مظاہرین نے ایسے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر ’’بھارت کی پراکسی جنگ ختم کرو‘‘ کے نعرے درج تھے۔ شرکا نے مرکزی حکومت کی جانب سے تنازعے سے نمٹنے کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے۔ پراکسی جنگ کا الزام مظاہرین کے مؤقف کی عکاسی کرتا ہے، اسے بھارتی حکومت کی کسی ثابت شدہ پالیسی کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔
مظاہرین نے سسپنشن آف آپریشنز (SoO) معاہدہ ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ یہ جنگ بندی کا ایک انتظام ہے جس میں بھارتی مرکزی حکومت، منی پور کی ریاستی حکومت اور بعض کوکی مسلح تنظیمیں شامل ہیں۔
اس معاہدے کا مقصد متعلقہ مسلح گروہوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان کارروائیاں معطل کرنا اور سیاسی مذاکرات کے لیے حالات سازگار بنانا تھا۔
معاہدے کے ناقدین کا مؤقف ہے کہ اس کے برقرار رہنے سے سکیورٹی خدشات دور نہیں ہوئے، جبکہ مذاکرات کے حامی ایسے انتظامات کو مزید تشدد روکنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔
ریلی کے شرکا نے اندرونِ ملک بے گھر ہونے والے افراد کی محفوظ واپسی کا بھی مطالبہ کیا۔ مئی 2023 میں نسلی تشدد شروع ہونے کے بعد بڑی تعداد میں متاثرین اپنے گھروں کو واپس نہیں جا سکے۔
منی پور میں تنازعہ وادی کے علاقوں میں اکثریت رکھنے والی میتی برادری اور پہاڑی اضلاع میں آباد کوکی زو برادریوں کے درمیان کشیدگی کے نتیجے میں شروع ہوا تھا۔
سیاسی نمائندگی، زمین کے حقوق، نسلی شناخت اور میتی برادری کو شیڈولڈ ٹرائب کا درجہ دینے کے مطالبے جیسے معاملات نے دونوں برادریوں کے تعلقات میں کشیدگی بڑھانے میں کردار ادا کیا۔
اس تشدد کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک ہوئے، مکانات تباہ ہوئے اور دسیوں ہزار شہری بے گھر ہو گئے۔ اس دوران مختلف برادریوں کے درمیان نسلی بنیادوں پر تقسیم میں بھی اضافہ ہوا۔
میتی برادری سے وابستہ شہری تنظیموں کے اتحاد COCOMI نے بارہا سکیورٹی اور بے گھر افراد کی بحالی سے متعلق حکومتی اقدامات پر تنقید کی ہے۔
یہ اتحاد ایسے انتظامات کی بھی مخالفت کرتا رہا ہے جنہیں وہ منی پور کی علاقائی سالمیت کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔
دوسری جانب کوکی زو تنظیموں نے اپنی برادریوں کی سلامتی کے حوالے سے خدشات ظاہر کیے ہیں اور ایسے سیاسی انتظامات کا مطالبہ کیا ہے جن سے انہیں زیادہ تحفظ اور خودمختاری حاصل ہو سکے۔
تنازعے سے متعلق ان تنظیموں کے مطالبات اور مؤقف COCOMI کے مؤقف سے مختلف ہیں۔
حالیہ مظاہرہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ منی پور میں امن کی بحالی کے طریقہ کار پر اختلافات بدستور موجود ہیں، خصوصاً اس سوال پر کہ آیا جنگ بندی کے موجودہ انتظامات برقرار رہنے چاہییں اور بے گھر خاندانوں کی واپسی سے پہلے کس نوعیت کی سکیورٹی ضمانتیں فراہم کی جائیں۔
بھارتی مرکزی حکومت کو مختلف برادریوں کی جانب سے امن و امان بحال کرنے، متاثرین کی بحالی یقینی بنانے اور تنازعے کا سیاسی حل تلاش کرنے کے مطالبات کا سامنا ہے۔
دستیاب اطلاعات کے مطابق تازہ مظاہرے پر بھارتی مرکزی حکومت کا فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔





