تہران: ایران نے تصدیق کی ہے کہ موجودہ جنگ شروع ہونے سے قبل روس سے سخوئی 35 لڑاکا طیاروں کی خریداری کے معاہدے طے پا چکے تھے، جبکہ ان کی فراہمی جنگ کے خاتمے کے بعد متوقع ہے۔ یہ بات ایرانی بریگیڈیئر جنرل محمد اکرم نیا نے بتائی۔
ہفتے کے روز ایک انٹرویو میں محمد اکرم نیا نے کہا کہ جنگ شروع ہونے سے پہلے طیاروں کی خریداری کے معاہدوں کو حتمی شکل دے دی گئی تھی اور ایرانی پائلٹس بھی ضروری تربیت مکمل کر چکے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ ان طیاروں کی آمد کے لیے فضائی اڈوں کے بنیادی ڈھانچے پر بھی کام کیا جا رہا تھا، جس کے باعث انہیں عملی طور پر استعمال میں لانے میں تاخیر ہوئی۔
یہ خریداری ایران کی فضائیہ میں موجود پرانے جنگی طیاروں کو تبدیل کرنے اور اس کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ ایران کو کئی برسوں سے پابندیوں کے باعث غیر ملکی فوجی سازوسامان تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔
مختلف رپورٹس کے مطابق ایران تقریباً 6 ارب یورو مالیت کے معاہدے کے تحت 48 سخوئی 35 طیارے خرید سکتا ہے۔ تاہم طیاروں کی تعداد اور معاہدے کی مالی تفصیلات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
روس کی کمپنی سخوئی کا تیار کردہ ایس یو 35 ایک کثیرالمقاصد لڑاکا طیارہ ہے، جسے فضائی لڑائی اور زمینی اہداف کے خلاف کارروائیوں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
ان طیاروں کی خریداری سے ایران کو اپنی موجودہ فضائیہ کے مقابلے میں زیادہ جدید ریڈار، ایویونکس اور پرواز کے نظام سے لیس طیارے حاصل ہوں گے۔
ایران اب بھی 1979 کے اسلامی انقلاب سے پہلے حاصل کیے گئے امریکی ساختہ ایف 4 فینٹم اور ایف 5 لڑاکا طیارے استعمال کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ اس کی فضائیہ میں بعد میں حاصل کیے گئے روسی ساختہ مگ 29 طیارے بھی شامل ہیں۔
بین الاقوامی پابندیوں، پرزہ جات کی فراہمی پر عائد پابندیوں اور غیر ملکی دفاعی کمپنیوں تک محدود رسائی کے باعث ایران کو ان طیاروں کی دیکھ بھال اور تبدیلی میں مشکلات پیش آتی رہی ہیں۔
محمد اکرم نیا نے فضائی نگرانی اور پیشگی خبردار کرنے والے طیاروں، سیٹلائٹس اور پانچویں نسل کے لڑاکا طیاروں کے حصول کے منصوبوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایران مقامی سطح پر فضائی ٹیکنالوجی کی تیاری کے منصوبوں پر بھی کام کر رہا ہے۔
فضائی نگرانی اور پیشگی اطلاع دینے والے نظام فوجی طیاروں کی نگرانی اور ان کے درمیان رابطہ کاری بہتر بنانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، جبکہ سیٹلائٹس مواصلاتی رابطوں اور نگرانی کی صلاحیتوں میں مدد فراہم کر سکتے ہیں۔
یہ مجوزہ خریداری ایران کی فوجی فضائی صلاحیتوں کو وسعت دینے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ تاہم محمد اکرم نیا نے اضافی نظاموں کی فراہمی کے لیے کوئی تاریخ نہیں بتائی اور نہ ہی ان کی خریداری کے حتمی معاہدوں کی تصدیق کی۔
حالیہ برسوں میں روس اور ایران کے درمیان دفاعی تعاون میں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث ماسکو تہران کے لیے جنگی طیاروں اور فوجی ٹیکنالوجی کی فراہمی کا ایک اہم ممکنہ ذریعہ بن گیا ہے۔
تاہم سخوئی 35 طیاروں کی فراہمی کا وقت اب بھی غیر یقینی ہے، خصوصاً جاری جنگ اور ان طیاروں کو چلانے اور ان کی دیکھ بھال کے لیے درکار بنیادی ڈھانچے کے پیش نظر۔
محمد اکرم نیا نے اعتماد ظاہر کیا کہ منصوبہ بندی کے تحت حاصل کیے جانے والے طیارے اور دیگر سازوسامان عملی استعمال میں آنے کے بعد ایرانی فضائیہ کی صلاحیتوں میں اضافہ کریں گے۔





