خلاصہ: بھارت کی اپوزیشن جماعتیں انتخابی فہرستوں میں تبدیلیوں کے خلاف اتوار کو نئی دہلی میں احتجاجی مارچ کی تیاری کر رہی ہیں، جس میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیا جائے گا۔ الیکشن کمیشن اور حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے کہ انتخابی فہرستوں میں کی گئی تبدیلیاں حکومت کے حق میں ہیں۔
نئی دہلی: بھارتی حکام نے انتخابی فہرستوں سے لاکھوں ووٹرز کے نام خارج کیے جانے کے خلاف اپوزیشن کے احتجاجی مارچ سے قبل اتوار کو نئی دہلی میں سیکیورٹی اہلکار تعینات کر دیے اور ٹریفک کی آمدورفت پر پابندیوں کا اعلان کیا۔ مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
اپوزیشن اتحاد انڈین نیشنل ڈیولپمنٹل انکلوسیو الائنس (انڈیا) کے زیرِ اہتمام احتجاجی مارچ کی قیادت کانگریس رہنما راہول گاندھی کر رہے ہیں۔ شریک جماعتوں نے وسطی دہلی سے رام لیلا میدان تک تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر طویل مارچ کا منصوبہ بنایا ہے۔
اپوزیشن منتظمین کے مطابق احتجاج میں لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے، تاہم شرکا کی اس متوقع تعداد کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
اجتماع سے قبل حکام نے جلسہ گاہ کے اطراف لاٹھیوں اور ڈھالوں سے لیس سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے، جبکہ ہنگامہ آرائی پر قابو پانے والی گاڑیاں بھی موجود تھیں۔
دہلی ٹریفک پولیس نے خبردار کیا کہ ہجوم اور گاڑیوں کی آمدورفت کو منظم رکھنے کے لیے ضرورت کے مطابق ٹریفک پابندیاں اور متبادل راستوں کا انتظام کیا جائے گا۔
سینیئر پولیس افسر روہت راجبیر نے خبر رساں ادارے اے این آئی کو بتایا کہ جلسہ گاہ اور مارچ کے مجوزہ راستے پر انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
یہ مظاہرہ بھارت میں ووٹرز کی رجسٹریشن کے نظام میں تبدیلیوں کے خلاف اپوزیشن جماعتوں، طلبہ تنظیموں اور نوجوانوں کی قیادت میں سرگرم گروہوں کے کئی ہفتوں سے جاری احتجاج کا تسلسل ہے۔
انتخابی فہرستوں میں تبدیلیوں پر تنازع
اپوزیشن کا الزام ہے کہ ووٹر لسٹوں پر نظرثانی کے نتیجے میں اہل ووٹرز کے نام خارج کیے گئے ہیں اور اس عمل سے مسلمان اور دیگر اقلیتی برادریاں غیر متناسب طور پر متاثر ہوئی ہیں۔
اپوزیشن جماعتوں کا مؤقف ہے کہ ان تبدیلیوں سے وزیراعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو فائدہ پہنچ سکتا ہے، جو 2014 سے بھارت میں برسراقتدار ہے۔
الیکشن کمیشن نے سیاسی جانبداری کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابی فہرستوں پر نظرثانی کا مقصد ووٹرز کے ریکارڈ کی درستگی کو بہتر بنانا ہے۔
کمیشن کے مطابق جن ووٹرز کے نام غلطی سے فہرستوں سے خارج ہوئے ہیں، وہ دوبارہ اندراج کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔
بی جے پی نے بھی اس عمل کا دفاع کرتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ووٹرز کی رجسٹریشن کے قانونی طریقہ کار پر سوال اٹھا کر انتخابی اداروں پر عوامی اعتماد کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔
رپورٹ میں پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال انتخابی فہرستوں پر نظرثانی کا عمل شروع ہونے کے بعد سے 13 کروڑ سے زائد نام خارج کیے جا چکے ہیں۔
ان میں تقریباً 2 کروڑ 80 لاکھ ایسے افراد شامل ہیں جنہیں وفات یافتہ ظاہر کیا گیا، 6 کروڑ 30 لاکھ افراد کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ دوسری جگہ منتقل ہو چکے ہیں، جبکہ 3 کروڑ افراد کا سراغ نہیں مل سکا۔
یہ اعداد و شمار نظرثانی کے دوران درج کی گئی مختلف وجوہات کی نشاندہی کرتے ہیں، تاہم ان سے بذاتِ خود یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اہل ووٹرز کو جان بوجھ کر انتخابی فہرستوں سے خارج کیا گیا۔
یہ تنازع ستمبر میں بھارتی اخبار دی انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے بعد مزید توجہ کا مرکز بنا، جس میں بتایا گیا تھا کہ دو ڈپٹی الیکشن کمشنرز نے ووٹرز کی رجسٹریشن کے طریقہ کار، انتخابی فہرستوں پر نظرثانی اور ڈیجیٹل نظام سے متعلق ادارے کے اندر تحفظات ظاہر کیے تھے۔
اس رپورٹ کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ تیز کر دیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ سامنے آنے والے تحفظات نے انتخابی عمل کی نگرانی اور انتظام پر سوالات کھڑے کیے ہیں۔
سیاسی اثرات اور پس منظر
یہ احتجاج ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اپوزیشن جماعتیں بھارت کے انتخابی اداروں اور ووٹرز کی اہلیت طے کرنے کے طریقہ کار پر سوال اٹھا رہی ہیں۔
انتخابی فہرستوں پر نظرثانی کا بنیادی مقصد دہری یا غیر مؤثر اندراجات کو ختم کرنا اور ووٹرز کا درست ریکارڈ برقرار رکھنا ہوتا ہے۔
تاہم یہ عمل اس وقت متنازع ہو سکتا ہے جب اہل شہریوں کو اپنی رجسٹریشن ثابت کرنے یا فہرستوں سے خارج کیے گئے نام دوبارہ شامل کرانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔
اپوزیشن کے نزدیک بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا نظرثانی کے عمل میں اہل ووٹرز کے نام غلطی سے خارج ہونے سے روکنے کے لیے مناسب حفاظتی اقدامات موجود ہیں یا نہیں۔
دوسری جانب الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد انتخابی ریکارڈ کی درستگی یقینی بنانا اور اہل ووٹرز کو رجسٹریشن کی غلطیاں درست کرانے کا موقع فراہم کرنا ہے۔
اس اختلاف نے بھارت جیسے ملک میں، جہاں ووٹرز کی تعداد کروڑوں میں ہے، انتخابی عمل کی آزادانہ نگرانی اور انتظامی اداروں کے کردار پر بھی توجہ مرکوز کر دی ہے۔
احتجاجی مظاہروں سے مودی حکومت پر سیاسی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے، تاہم پارلیمان میں حکومت کی پوزیشن بدستور برقرار ہے اور بھارت میں اگلے عام انتخابات 2029 میں ہونے ہیں۔
اس تنازع کے نتائج کا انحصار کسی حد تک اس بات پر ہوگا کہ الیکشن کمیشن ووٹرز کی رجسٹریشن سے متعلق شکایات کو کس طرح نمٹاتا ہے، اپیل کا طریقہ کار کتنا قابلِ رسائی ہے اور آیا اہل ووٹرز کے نام غلط طور پر خارج کیے جانے کے الزامات ثابت ہوتے ہیں یا نہیں۔
رپورٹ مرتب کیے جانے کے وقت پولیس کی نگرانی میں احتجاجی مارچ کی تیاریاں جاری تھیں، جبکہ مظاہرے میں شریک افراد کی حتمی تعداد یا احتجاج کے نتائج کی تصدیق نہیں ہو سکی تھی۔





