پشاور: وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سمیت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے متعدد رہنماؤں کو حفاظتی تحویل میں لے لیا ہے۔
پیر، 12 اکتوبر کو پولیس نے تصدیق کی کہ مجموعی طور پر آٹھ افراد کو تحویل میں لیا گیا ہے، جن میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، خیبر پختونخوا اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی اور پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر بھی شامل ہیں۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بھی تصدیق کی کہ سہیل آفریدی اور ان کی صوبائی کابینہ کے بعض ارکان کو اتوار کے روز حفاظتی تحویل میں لیا گیا تھا۔
طلال چوہدری کے مطابق جن افراد کے خلاف فوجداری مقدمات درج ہیں، ان پر باقاعدہ فردِ جرم عائد کرکے قانونی کارروائی کی جائے گی، جبکہ کسی مقدمے میں مطلوب نہ ہونے والے افراد کو رہا کر دیا جائے گا۔
یہ کارروائیاں صدر آصف علی زرداری کی جانب سے اتوار، 11 اکتوبر کو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی منظوری کے بعد عمل میں لائی گئیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا کہ سہیل آفریدی کو باضابطہ طور پر گرفتار نہیں کیا گیا بلکہ انہیں حفاظتی تحویل میں رکھا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی کو معطل کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے وفاقی حکومت کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے زیرِ حراست رہنماؤں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
پی ٹی آئی کے ترجمان شیخ وقاص اکرم نے الزام عائد کیا کہ ان کارروائیوں کا مقصد تحریک انصاف کو کمزور کرنا اور صوبے کی منتخب قیادت کے اختیارات کو متاثر کرنا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب تحریک انصاف سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر لانگ مارچ کر رہی ہے۔
تازہ صورتحال کے بعد وفاقی حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان سیاسی کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے، جبکہ صوبائی خودمختاری اور معطل صوبائی انتظامیہ کے مستقبل سے متعلق بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔





