تل ابیب: اسرائیل کے پارلیمانی انتخابات میں بدھ کو گنتی آگے بڑھنے کے ساتھ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کا سیاسی اتحاد برتری برقرار رکھے ہوئے تھا، تاہم نئی حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ حمایت ابھی واضح نہیں ہوسکی۔
تقریباً نصف ووٹوں کی گنتی کے بعد یروشلم پوسٹ کی تازہ پیش گوئی میں نیتن یاہو کے اتحادیوں کو 55 اور سابق فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ کی قیادت میں اپوزیشن دھڑے کو 50 نشستیں مل رہی تھیں۔ 120 رکنی پارلیمان میں اکثریت کے لیے 61 نشستیں ضروری ہیں۔ یہ عارضی تخمینے ہیں، حتمی نشستیں نہیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق مرکزی انتخابی کمیٹی کے اعداد میں شمار شدہ ووٹوں کا 20.6 فیصد نیتن یاہو کی لیکود اور 16.8 فیصد آئزن کوٹ کی یشار جماعت کو ملا۔ یہ شرح انفرادی جماعتوں کی ہے، ان کے پورے سیاسی اتحادوں کی نہیں۔
ابتدائی گنتی کی صورت رات کے ایگزٹ پولز سے آگے بڑھ چکی ہے، جن میں دونوں بڑے دھڑوں کے درمیان تقریباً برابری دکھائی گئی تھی۔ نیتن یاہو دائیں بازو کی حکومت بنانے پر زور دے رہے ہیں، جبکہ آئزن کوٹ کا کہنا ہے کہ عوام قیادت میں تبدیلی چاہتے ہیں۔
عرب جماعتوں کی حمایت حکومت سازی میں اہم ہوسکتی ہے۔ تاہم نیتن یاہو ان کی حمایت پر انحصار کی مخالفت کرتے ہیں، جبکہ آئزن کوٹ بھی انتخابی مہم میں عرب ارکان کے ساتھ حکومت بنانے سے انکار کرچکے ہیں۔ اتحاد میں شامل ہوئے بغیر کسی اقلیتی حکومت کی حمایت ایک ممکنہ راستہ ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق فوجی اہلکاروں کے ڈالے گئے لاکھوں ووٹوں کی گنتی ابھی باقی تھی، اس لیے موجودہ صورت مزید بدل سکتی ہے۔
نتائج سامنے آنے کے بعد صدر آئزک ہرزوگ اس سیاست دان کو حکومت بنانے کی ذمہ داری دیں گے جس کے کامیاب ہونے کا امکان انہیں زیادہ نظر آئے۔ سب سے بڑی جماعت کا سربراہ ہونا خود بخود یہ موقع ملنے کی ضمانت نہیں۔
اسرائیل میں اہل جماعتوں کو ووٹوں کے تناسب سے نشستیں ملتی ہیں۔ اس لیے اقتدار کا فیصلہ حتمی نتائج کے ساتھ اس بات پر بھی منحصر ہوگا کہ کون سی جماعتیں مل کر حکومت بنانے پر اتفاق کرتی ہیں۔




