لکی مروت: وفاقی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافات دور کرنے کے لیے ہونے والے مذاکرات بے نتیجہ رہنے کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اتوار کو خیبر پختونخوا سے اسلام آباد کی جانب اپنے مارچ کا آغاز کرنے جا رہی ہے۔
مارچ کا مقصد پی ٹی آئی کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کرنا ہے۔ پارٹی نے ابتدا میں 27 ستمبر کو مارچ کا اعلان کیا تھا، تاہم بعد میں اسے ملتوی کرکے 4 اکتوبر کر دیا گیا۔
پی ٹی آئی کارکنوں نے سرائے نورنگ کے قریب پشاور کراچی ہائی وے پر واقع گنڈی چوک میں جمع ہونا شروع کر دیا، جہاں روانگی سے قبل پارٹی کے جھنڈے اور بینرز آویزاں کیے گئے۔
اجتماع کے مقام پر سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں، جہاں پولیس کی بھاری نفری، بکتر بند گاڑیاں اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کے اہلکار تعینات ہیں۔
خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے داخلہ و قبائلی امور طارق سعد نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی دوپہر ایک بجے گنڈی چوک پہنچ کر مارچ کی قیادت کریں گے۔
طارق سعد کے مطابق بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان سے کارکن قافلے میں شامل ہوں گے۔ کرفیو یا دیگر سکیورٹی پابندیوں کے باعث شرکت نہ کر سکنے والے کارکن مارچ کے پشاور کی جانب بڑھنے کے دوران قافلے میں شامل ہو سکیں گے۔
پی ٹی آئی اور وفاقی حکومت کے درمیان مذاکرات میں تعطل کے باوجود مارچ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ مظاہرین کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
وفاقی وزرا نے سکیورٹی صورتحال اور احتجاج کے پیش نظر خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج سمیت آئینی اقدامات کے امکان کا بھی ذکر کیا ہے، جبکہ پی ٹی آئی نے ایسے اقدامات کی مخالفت کی ہے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے شیئر کیے گئے منصوبے کے مطابق قافلہ اسلام آباد کی جانب بڑھنے سے پہلے مختلف مراحل میں خیبر پختونخوا سے گزرے گا۔
مارچ کی پہلی رات کرک کے قریب قیام کیا جائے گا، جس کے بعد قافلہ 5 اکتوبر کو دوپہر 12:30 بجے روانہ ہو کر کوہاٹ کے قریب رات گزارے گا۔
6 اکتوبر کو کوہاٹ، ہنگو، کرم اور اورکزئی سے کارکن قافلے میں شامل ہوں گے، جس کے بعد مارچ پشاور کی جانب روانہ ہوگا اور متنی کے قریب قیام کرے گا۔
قافلہ 7 اکتوبر کو پشاور کے علاقے بڈھ بیر سے روانہ ہوگا۔ مزید کارکن کوہاٹ روڈ برج اور موٹروے ٹول پلازہ پر قافلے میں شامل ہوں گے، جس کے بعد مارچ چارسدہ انٹرچینج کے قریب رات گزارے گا۔
8 اکتوبر کو چارسدہ اور مہمند سے کارکن قافلے میں شامل ہوں گے، جس کے بعد مارچ خیرآباد کی جانب بڑھے گا۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے مطابق مارچ کے اگلے مرحلے کے منصوبے کا اعلان وہاں کیا جائے گا۔
مارچ سے قبل حکام نے خیبر پختونخوا کی متعدد سڑکوں پر دفعہ 144 کے تحت نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔





