تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پیر کو تہران میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کی۔ تینوں ممالک کی جانب سے اس ملاقات کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی کو محدود کرنے اور سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانا تھا۔
وفد میں پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر، سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترکی کی انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ ابراہیم قالن شامل تھے۔
ایرانی صدر سے ملاقات سے قبل وفد کے ارکان نے ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی مذاکرات میں شریک ہوئے۔
ایران کے سرکاری بیان کے مطابق صدر پزشکیان نے مسلم ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینے والے اقدامات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ علاقائی ممالک اپنے وسائل اور صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر سلامتی اور ترقی کے مشترکہ اہداف حاصل کر سکتے ہیں۔
تقریباً دو گھنٹے جاری رہنے والے مذاکرات میں شرکا نے علاقائی امن و سلامتی سے متعلق بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا، تاہم زیر بحث معاملات پر کسی معاہدے کا اعلان نہیں کیا گیا۔
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق اس دورے کا مقصد پاکستان اور قطر کی ثالثی کی کوششوں کی حمایت، علاقائی کشیدگی میں کمی اور سفارتی روابط کو فروغ دینا تھا۔
یہ ملاقات گزشتہ ہفتے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورہ تہران کے بعد ہوئی۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق عاصم منیر نے اپنے دورے کے دوران تینوں ممالک کے نمائندوں اور ایرانی حکام کے درمیان مشترکہ ملاقات کی تجویز پیش کی تھی۔
پیر کے مذاکرات سے قبل قطر کا ایک وفد بھی تہران کا دورہ کر چکا تھا۔ یہ سفارتی سرگرمیاں خلیجی اور دیگر علاقائی ممالک کی جانب سے کشیدگی کم کرنے کے لیے جاری کوششوں کا حصہ ہیں۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے فریق ہیں۔ ایران کے ساتھ ان ممالک کے مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب تینوں ممالک اپنے دفاعی اور سلامتی کے مفادات میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے ساتھ تہران سے سفارتی روابط بھی برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔
آبنائے ہرمز، یمن اور ایران امریکہ کشیدگی
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے جب یمن کی انصار اللہ تحریک کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت پر عائد پابندیوں اور ایران، امریکہ اور فلسطین میں قابض قوتوں کے درمیان مزید فوجی تصادم کے خدشات موجود ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مذاکرات کے ایجنڈے میں علاقائی سطح پر ایک دوسرے کے خلاف جارحیت نہ کرنے کے ممکنہ معاہدے، ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی بحالی، انصار اللہ کے حملوں کی بندش اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے جیسے معاملات شامل تھے۔
ایرانی بندرگاہوں کی امریکی بحری ناکہ بندی اور فلسطین و لبنان کی صورت حال بھی مبینہ طور پر زیر بحث آئی۔
تہران میں ہونے والی ملاقات کے دوران ہی مصری پارلیمان نے صدر عبدالفتاح السیسی کو انصار اللہ کے ساتھ جاری تنازع کے تناظر میں سعودی عرب کو دفاعی فوجی معاونت فراہم کرنے کی اجازت دی۔
مصر بھی کشیدگی کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے تہران، واشنگٹن اور دیگر علاقائی حکومتوں کے ساتھ سفارتی رابطے برقرار رکھے ہوئے ہے۔
یہ متوازی سفارتی سرگرمیاں ظاہر کرتی ہیں کہ خطے کے متعدد ممالک موجودہ دفاعی انتظامات کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے بھی سلامتی سے متعلق مسائل حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔




