پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے معطل وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا، صوبائی اسمبلی کے اسپیکر اور دیگر افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں پر فریقین سے دس روز میں جواب طلب کرلیا۔
جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل بینچ نے درخواستوں کی سماعت کی۔
درخواست گزاروں کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ معطل وزیراعلیٰ اور اسپیکر صوبائی اسمبلی کو دس روز پہلے لاپتا کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے بار بار کہا جارہا ہے کہ متعلقہ افراد اس کی تحویل میں ہیں۔
اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت تسلیم کرچکی ہے کہ تمام متعلقہ افراد اس کی حفاظتی حراست میں ہیں۔
درخواست گزاروں کے وکیل نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی رہنما جنید اکبر سمیت 11 افراد کو بھی اسپیکر ہاؤس سے اٹھایا گیا تھا۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ آئین کے تحت اسپیکر کو تحفظ حاصل ہے اور انہیں اس انداز میں اسپیکر ہاؤس سے گرفتار نہیں کیا جاسکتا۔
جسٹس ارشد علی نے ریمارکس دیے کہ عدالت فریقین کے جواب منگوا لیتی ہے، وکیل جلدی نہ کریں۔
عدالت نے فریقین کو دس روز میں جواب جمع کرانے کی ہدایت کردی۔





