اسلام آباد: ڈان کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت کو 27 ستمبر کے احتجاجی مارچ کی ناکامی پر اپنی صفوں میں سوالات کا سامنا ہے، جبکہ پارٹی کی کور کمیٹی کے ارکان اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ مارچ کی تاریخ کا اعلان کیسے کیا گیا اور کارکنوں کو متحرک کرنے کی کوششیں کیوں ناکام ہوئیں۔
اندرونی مباحثوں کے دوران فیصلہ سازی، رابطہ کاری اور احتجاج کی ناکامی کی ذمہ داری کے حوالے سے اختلافات سامنے آئے ہیں، تاہم پارٹی رہنماؤں نے عوامی سطح پر قیادت میں اختلافات کی خبروں کو مسترد کیا ہے۔
پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے اتوار کو اس تنازع پر ردعمل دیتے ہوئے کور کمیٹی کے اجلاس میں اختلافات کی اطلاعات کی تردید کی اور خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا دفاع کیا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں راجہ نے سہیل آفریدی کو پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کے سیاسی نظریے سے وابستہ قرار دیا، تاہم انہوں نے احتجاج کے انتظامی معاملات کا جائزہ لینے کی ضرورت کو بھی تسلیم کیا۔
انہوں نے ناقدین پر الزام عائد کیا کہ وہ کمیٹی کی بات چیت کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرکے پارٹی ارکان کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اجلاس میں شریک ایک پارٹی رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈان کو بتایا کہ کور کمیٹی نے احتجاج کی ناکامی کے اسباب کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ ان کے مطابق، ہفتے کی رات 10 بجے کے بعد شروع ہونے والا اجلاس اتوار کی رات 2 بجے کے بعد ختم ہوا۔
رہنما کے مطابق، اجلاس میں کمیٹی کے 16 ارکان کو اظہارِ خیال کا موقع دیا گیا، جبکہ باقی ارکان آئندہ اجلاسوں میں اپنی رائے پیش کریں گے۔
ذرائع نے دعویٰ کیا کہ اجلاس میں اس بات پر سوالات اٹھائے گئے کہ سہیل آفریدی نے پارٹی کی سیاسی کمیٹی اور کور کمیٹی سے مشاورت کے بغیر 27 ستمبر کو احتجاجی مارچ کی تاریخ کا اعلان کیوں کیا۔
ارکان کو مبینہ طور پر بتایا گیا کہ سہیل آفریدی نے اگست میں خیبر پختونخوا میں ایک اجلاس کے دوران مارچ پر تبادلہ خیال کیا تھا، جس میں بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجہ، اسد قیصر اور پارٹی کے دیگر رہنما شریک تھے۔
تاہم، احتجاج کے لیے کارکنوں کو متحرک کرنے کی ذمہ داری سنبھالنے والے ارکان کو مبینہ طور پر عملی منصوبہ بندی اور انتظامات کی تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا گیا۔
پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے سیکریٹری جنرل اور احتجاجی مارچ کی رابطہ کمیٹی کے سربراہ علی اصغر خان نے مبینہ طور پر اجلاس کو بتایا کہ سہیل آفریدی اور جنید اکبر سے متعدد مرتبہ تفصیلات طلب کرنے کے باوجود انہیں منصوبہ بندی سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔
اس انکشاف پر کور کمیٹی کے ارکان نے تنقید کی۔ خاص طور پر اس بات پر تحفظات سامنے آئے کہ حکام نے امنِ عامہ برقرار رکھنے کے قانون (ایم پی او) کے تحت پارٹی کے 1,400 سے زائد کارکنوں اور رہنماؤں کو گرفتار کیا، لیکن اس کے باوجود احتجاج کے لیے مربوط حکمت عملی موجود نہیں تھی۔
کمیٹی نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا بھی جائزہ لیا، جن میں اس معاملے پر اختلافات شامل تھے کہ آیا عمران خان سے مشاورت کے بغیر کسی معاہدے کو حتمی شکل دی جا سکتی ہے۔
پارٹی کے ایک اور ذریعے کے مطابق، حلیم عادل شیخ نے مذاکرات کی ناکامی کی 70 فیصد ذمہ داری اپوزیشن اور 30 فیصد حکومت پر عائد کی۔
اجلاس میں اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان (ٹی ٹی اے پی) کے ضلعی سطح پر دفاتر قائم کرنے کی تجویز سے متعلق اطلاعات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق، بیرسٹر گوہر نے اس اقدام کی منظوری دینے کی تردید کی۔
اجلاس کے دوران سیمابیہ طاہر نے ایک اور احتجاجی مارچ منعقد کرنے کی تجویز پیش کی، تاہم بیشتر ارکان نے موجودہ حالات کا حوالہ دیتے ہوئے اس تجویز کی مخالفت کی۔
ڈان کی جانب سے مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کیے جانے پر پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
کور کمیٹی میں اس معاملے پر مزید بحث متوقع ہے، جس کے دوران ارکان پارٹی کی احتجاجی حکمت عملی اور 27 ستمبر کے مارچ کی ناکامی کا سبب بننے والے فیصلوں کا جائزہ لیں گے۔





