اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کا اجلاس جاری ہے، جس میں خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے ممکنہ نفاذ سمیت ملک کی سیاسی صورتحال اور اپوزیشن کے اتحاد کو مضبوط بنانے کے معاملات زیرِ غور ہیں۔
ترجمان جمعیت علمائے اسلام اسلم غوری کے مطابق اجلاس میں ملک بھر سے مرکزی مجلسِ شوریٰ کے اراکین شریک ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کا معاملہ اجلاس کے ایجنڈے میں سرفہرست ہے۔
اجلاس میں حکومت کے ان اقدامات کے خلاف، جنہیں جماعت آئین سے ماورا قرار دیتی ہے، سیاسی تحریک کو مؤثر بنانے کے لیے آئندہ لائحۂ عمل پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
اسلم غوری کے مطابق اپوزیشن جماعتوں کے درمیان اتحاد کو مضبوط بنانے اور اس کا دائرہ وسیع کرنے کے حوالے سے بھی مشاورت جاری ہے۔
اجلاس کے دیگر اہم نکات میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی کارکردگی کا جائزہ، ملکی سیاسی صورتحال کے تناظر میں مستقبل کے فیصلے اور عوامی حقوق سے متعلق جماعتی حکمتِ عملی شامل ہیں۔
مرکزی شوریٰ مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف جماعت کی تحریک کے مستقبل پر بھی غور کر رہی ہے۔
اس کے علاوہ خطے کی صورتحال، بالخصوص مشرقِ وسطیٰ اور حرمین شریفین کے حالات پر بھی تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام کے رہنما علامہ راشد محمود سومرو نے مولانا فضل الرحمٰن کے خلاف ہونے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان کے بیانات پر اعتراض کرنے والوں کو پہلے ان کی اصل گفتگو سامنے لانی چاہیے۔
راشد محمود سومرو نے سوال اٹھایا کہ جو سیاسی اقدامات 2018 میں ناجائز سمجھے جاتے تھے، انہیں آج جائز کیسے قرار دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن پارلیمنٹ اور آئین کے ساتھ کھڑے ہیں اور کسی غیر جمہوری اقدام کی حمایت نہیں کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن ایسی اسمبلیوں کے قیام کے حامی ہیں جو عوام کی حقیقی مرضی کی نمائندگی کریں۔
راشد محمود سومرو نے موجودہ اسمبلیوں کی نمائندہ حیثیت پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام ان اسمبلیوں کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں جنہیں وہ جعلی قرار دیتی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ قومی فیصلے عوام کے اعتماد کے ساتھ کیے جانے چاہییں اور عوام کو اعتماد میں لینے کا بہترین فورم پارلیمنٹ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بند کمروں میں فیصلے کرکے مولانا فضل الرحمٰن سے ان کی توثیق کا مطالبہ کرنا مناسب نہیں۔
دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں سے متعلق راشد محمود سومرو نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام نے کبھی دہشت گردوں کے خلاف کارروائی سے منع نہیں کیا، تاہم قومی معاملات میں آئینی اور جمہوری طریقہ کار اختیار کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے سیاسی قوتوں کو اختلافات ختم کرکے مذاکرات کی میز پر بیٹھنے اور ملک میں استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں کرنے کی دعوت دی۔
ادھر سابق سینیٹر اور جمعیت علمائے اسلام فاٹا کے جنرل سیکرٹری مولانا عبدالرشید نے ملک کی سیاسی، معاشی اور سلامتی کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور سابق قبائلی علاقوں میں بدامنی اور جنگی کیفیت کے باعث حالات سنگین ہو چکے ہیں۔
مولانا عبدالرشید کے مطابق جمعیت علمائے اسلام آئین، قانون اور جمہوریت پر یقین رکھتی ہے اور آئینی حدود سے تجاوز کرنے والے ہر اقدام کی مخالفت کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن آئین، جمہوریت اور پاکستان کے مفادات کی بات کر رہے ہیں، جبکہ ان کے سیاسی مؤقف کو متنازع بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
سابق سینیٹر نے مزید کہا کہ سابق فاٹا کے عوام اور جماعتی کارکن مولانا فضل الرحمٰن کے سیاسی مؤقف کی حمایت کرتے ہیں۔
جمعیت علمائے اسلام کی مرکزی مجلسِ شوریٰ میں مختلف امور پر مشاورت جاری ہے، تاہم اجلاس کے حتمی فیصلوں یا قراردادوں کا تاحال اعلان نہیں کیا گیا۔





